پی ایس ایل 10: پشاور زلمی اور ملتان سلطانز کا ٹاکرا آج ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 19th, April 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 10 کا نواں میچ آج پشاور زلمی اور ملتان سلطانز کے درمیان راؤلپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ یہ میچ رات 8 بجے شروع ہو گا۔
یہ بھی پڑھیے: پی ایس ایل 10: اسلام آباد یونائیٹڈ نے پشاور زلمی کو 102 رنز سے شکست دے دی
پشاور زلمی کی قیادت بابر اعظم جبکہ ملتان سلطانز کی سربراہی محمد رضوان کررہے ہیں۔
اس سے قبل پی ایس ایل کے پانچویں میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے پشاور زلمی کو 102 رنز سے شکست دی تھی جبکہ ایونٹ کے ساتویں میچ میں ملتان سلطانز کو بھی اسلام آباد یونائیٹڈ کے ہاتھوں 47 رنز سے شکست ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:پی سی بی چیئرمین بننے کی خواہش نہیں، اگر کبھی بنا تو ملک کے لیے بنوں گا، شاہد آفریدی
شائقین کرکٹ راؤلپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں ایک دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے کی توقع کر رہے ہیں۔ میچ کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد یونائیٹڈ پشاور زلمی پی ایس ایل 10 ملتان سلطانز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام آباد یونائیٹڈ پشاور زلمی پی ایس ایل 10 ملتان سلطانز ملتان سلطانز پشاور زلمی پی ایس ایل
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔