ایم ڈبلیو ایم کا مرکزی کنونشن، شخصیات کے تاثرات
اشاعت کی تاریخ: 19th, April 2025 GMT
اسلام ٹائمز: اس موقع پر ملک بھر سے تنظیمی عہدیداران شریک تھے۔ علامہ سید علی رضا رضوی، علامہ مقصود علی ڈومکی، آغا سید علی رضوی، سید شادمان رضا، جان محمد حیدری اور علامہ احمد نوری نے کنونشن اور عزاداری کانفرنس کے حوالے سے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: سید عدیل عباس
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے تین روزہ مرکزی بقیۃ اللہ تنظیمی کنونشن اور انٹراپارٹی الیکشن کا آغاز اسلام آباد میں ہوگیا ہے۔ مرکزی کنونشن کے پہلے روز قومی عزاداری کانفرنس کا انعقاد جامع امام الصادقؑ جی نائن ٹو میں ہوا، جس میں مرکزی خطاب بین الاقوامی شہرت یافتہ عالم دین اور خطیب اہلبیتؑ علامہ سید علی رضا رضوی نے کیا، جبکہ دیگر مقررین میں چیئرمین آئی او پاکستان ڈاکٹر حضوری مہدی، متولی امام بارگاہ سید ابنِ رضوی، اظہر عابدی و دیگر شامل تھے۔ بعدازاں سبز علی شہزاد، شادمان رضا نقوی نے نوحہ خوانی کی، اس موقع پر ملک بھر سے تنظیمی عہدیداران شریک تھے۔ اس موقع پر علامہ سید علی رضا رضوی، علامہ مقصود علی ڈومکی، آغا سید علی رضوی، سید شادمان رضا، جان محمد حیدری اور علامہ احمد نوری نے کنونشن اور عزاداری کانفرنس کے حوالے سے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہیں۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید علی
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :