پپپلز پارٹی پنجاب میں کسانوں کے حقوق کا پرچم بلند کرے گی
اشاعت کی تاریخ: 20th, April 2025 GMT
جڑانوالہ میں جیالوں سے خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ ایک ہی خاندان کے 12 لوگوں کی شہادت کا سنا تو سوچا ضرور جاؤں گا، حکومت میں اعلیٰ عہدے پر رہ کر غمزدہ خاندان کے ساتھ اظہار ہمدردی کے لیے آنا ضروری سمجھا۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان لنڈیانوالہ ٹریفک حادثہ میں 12 افراد کے جاں بحق ہونے والوں کے ورثاء سے تعزیت کیلئے جڑانوالہ پہنچ گئے۔ جڑانوالہ آمد پر سابق ٹکٹ ہولڈر رائے وقاص اسلم کے ڈیرے پر جیالوں سے خطاب کرتے ہوئے سردار سلیم حیدر خان کا کہنا تھا کہ ایک ہی خاندان کے 12 لوگوں کی شہادت کا سنا تو سوچا ضرور جاؤں گا، حکومت میں اعلیٰ عہدے پر رہ کر غمزدہ خاندان کے ساتھ اظہار ہمدردی کے لیے آنا ضروری سمجھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کسانوں کو مشکلات کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے، بہت جلد بلاول بھٹو پنجاب میں آکر کسانوں کی نمائندگی کریں گے، کارکنوں کے تعاون سے بلاول بھٹو زرداری کو پاکستان کا وزیراعظم بنائیں گے۔
گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ گورنر ہاؤس کے دروازے عوام کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں، میرے ہوتے ہوئے غریب عوام کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کروں گا، شہر شہر جاکر شہید ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو شہید کا پیغام پہنچا رہا ہوں۔ سردار سلیم حیدر خان کا مزید کہنا تھا کہ بھٹو خاندان نے ہمیشہ پسے ہوئے طبقے، کسان اور مزدور کے حقوق کی بات کی ہے، پپپلز پارٹی پنجاب میں کسانوں کے حقوق کا پرچم بلند کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہنا تھا کہ خاندان کے
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔