UrduPoint:
2026-07-24@10:47:05 GMT

بھارت: حملے کے بعد سیاحوں کا کشمیر سے تیزی سے انخلا

اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT

بھارت: حملے کے بعد سیاحوں کا کشمیر سے تیزی سے انخلا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 23 اپریل 2025ء) بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو ''چھوٹا سوئٹزرلینڈ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ منگل کے روز اس کے سرسبز چراگاہوں اور برف پوش پہاڑوں والے علاقے پہلگام میں مسلح افراد کے خونریز حملے میں کم از کم 26 افراد ہلاک ہوئے، جو سن 2000ء کے بعد اس خطے میں عام شہریوں پر سب سے بڑا اور سنگین ترین حملہ تھا۔

حملے کے فوری اثرات

بدھ کے روز جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نےکشمیر سے نکلنے والے سیاحوں کو ''ہمارے مہمانوں کا انخلا‘‘ قرار دیتے ہوئے تصدیق کی وہ تیزی سے واپس جا رہے ہیں۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق بسوں اور ٹیکسیوں میں سوار سیاح وادی چھوڑنے کے لیے بے تاب دکھائی دیے، جبکہ ہوٹلوں نے مہمانوں کی بکنگ کی منسوخیوں کی بھرمار کی اطلاعات دی ہیں۔

(جاری ہے)

پہلگام کی پرسکون چراگاہوں، جو عام طور پر سیاحوں سے بھری رہتی ہیں، میں فوجی ہیلی کاپٹروں کی گونج سنائی دی، جو حملہ آوروں کی تلاش میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس نیوز ایجنسی کے مطابق حملے کی جگہ پر خون کے دھبے موجود تھے، جہاں بلٹ پروف جیکٹوں میں ملبوس فوجی گشت کر رہے تھے اور میڈیکو لیگل ٹیمیں شواہد اکٹھا کر رہی تھیں۔

سیاحت پر گہرے اثرات

پہلگام کے ہوٹل ماؤنٹ ویو کے مینیجر عبدالسلام نے بتایا کہ منگل کی دوپہر تک ان کا ہوٹل مہینوں کے لیے مکمل طور پر بُک تھا لیکن حملے کی خبر پھیلتے ہی منسوخیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا، ''یہ المیہ کشمیر میں سیاحت کو مفلوج کر دے گا۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا، ''ہم اب بھی اپنے گاہکوں کو یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ محفوظ ہیں۔

‘‘

وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسی کے تحت بھارتی حکام نے کشمیر کو اس کی سرسبز وادیوں اور موسم کی مناسبت کی وجہ سے ''سیاحتی جنت‘‘ کے طور پر فروغ دیا ہے۔ سن 2024 میں 35 لاکھ سیاحوں، جن میں زیادہ تعداد ملکی سیاحوں کی تھی، نے اس خطے کا رخ کیا۔ حکام کے مطابق یہ اعداد و شمار اس خطے میں ''امن اور معمولات زندگی‘‘ کی واپسی کی علامت تھے، تاہم اس حملے نے سیاحت کے اس فروغ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

پہلگام 'دہشت گردانہ' حملے پر عالمی ردعمل

سیاحوں کا انخلا اور سرکاری اقدامات

حملے کے بعد بھارتی حکام نے سیاحوں کے انخلا کو آسان بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل آف سول ایوی ایشن فیض احمد قدوائی نے ایئرلائنز کو ہدایت کی ہے کہ وہ مسافر پروازوں کی تعداد بڑھائیں۔ ایئر انڈیا نے بدھ کو اعلان کیا کہ اس نے ''موجودہ صورتحال کے پیش نظر‘‘ اضافی پروازیں شروع کر دی ہیں۔

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک بیان میں کہا، ''پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد وادی سے سیاحوں کا انخلا دل شکن ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ لوگ کیوں جانا چاہتے ہیں۔‘‘

مقامی کشمیریوں کی مہمان نوازی

ممبئی سے تعلق رکھنے والے سیاح پارس ساولا نے بتایا کہ حملے کے بعد بہت سے سیاح خوفزدہ ہیں اور جلد از جلد واپسی کے لیے پروازوں کی تلاش میں ہیں۔

تاہم انہوں نے مقامی کشمیریوں کی مہمان نوازی کی تعریف کی، ''ہم یہاں کے عوام سے نہیں ڈرتے۔ وہ ہر ممکن مدد کر رہے ہیں، ہمیں ضرورت کی ہر چیز فراہم کر رہے ہیں۔‘‘ مستقبل کے خدشات

تجزیہ کاروں کے مطابق مقامی باشندوں اور کاروباری افراد کے لیے یہ حملہ معاشی نقصان کا باعث بنے گا کیونکہ سیاحت اس خطے کی معیشت کا اہم ستون ہے۔ پہلگام کے قریب نئے ریزورٹس کی تعمیر بھی جاری ہے لیکن اس حملے نے سیاحت کے مستقبل پر سوالیہ نشانات لگا دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بھارت نے سیاحت کے ذریعے خطے میں ''امن‘‘ کی تصویر پیش کی، لیکن اس طرح کے واقعات سیاحوں کے اعتماد کو متزلزل کر سکتے ہیں۔

ادارت: مقبول ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے حملے کے بعد کے مطابق رہے ہیں کے لیے کر رہے

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • فرانس میں جنگلاتی آگ نے 43 ہزار افراد کو انخلا پر مجبور کردیا
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا