حکومت کا بڑا فیصلہ، پراپرٹی خریدانے والوں کیلئے خوشخبری
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
وقاص احمد: چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال کا کہنا ہے کہ پراپرٹی کی خریداری پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کے خاتمے کے لیے سمری وفاقی کابینہ کو ارسال کر دی گئی ہے جس کی منظوری کے بعد فوری طور پر اطلاق کیا جائے گا۔
میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں چیئرمین ایف بی آر نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم نے پراپرٹی خریدنے پر ایف ای ڈی ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور خریداروں کو ریلیف دینا ہے۔
پی ایس ایل10؛ ملتان سلطانز کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
راشد محمود لنگڑیال کے مطابق فائلرز کے لیے 3 فیصد ایف ای ڈی ختم کی جا رہی ہے۔ لیٹ فائلرز پر عائد 5 فیصد ایف ای ڈی کا بھی خاتمہ ہوگا۔
اس کے علاوہ نان فائلرز پر لاگو 7 فیصد ایف ای ڈی بھی ختم کرنے کی منظوری دی جا چکی ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پراپرٹی کی خریداری کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی یعنی تمام اقسام کی پراپرٹی خریدنے والوں کو اس فیصلے سے فائدہ حاصل ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ایف ای ڈی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔