غزہ، گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 50 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج کی جارحیت کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 50 فلسطینی شہید ہوئے جب کہ 152 زخمی افراد کو ہسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ صیہونی فوج کی وحشیانہ بمباری اور نسل کشی مہم کے دوران گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 50 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج کی جارحیت کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 50 فلسطینی شہید ہوئے جب کہ 152 زخمی افراد کو ہسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔ وزارت صحت نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ شہیدوں میں سے دو زخمی شامل ہیں جو گذشتہ روز دم توڑ گئے تھے۔وزارت صحت کے مطابق 18 مارچ 2025ء سے اب تک 1,978 فلسطینی شہید اور 5,207 زخمی ہو گئے ہیں۔ اسی طرح 7 اکتوبر 2023ء سے اب تک اسرائیلی جارحیت سے 51,355 فلسطینی شہید اور 117,248 زخمی ہو گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گھنٹوں کے دوران فلسطینی شہید
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔