UrduPoint:
2026-07-24@10:52:33 GMT

عالیہ حمزہ کو رہا کر دیا گیا

اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT

عالیہ حمزہ کو رہا کر دیا گیا

جہلم (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2025ء) عالیہ حمزہ کو رہا کر دیا گیا، تحریک انصاف کی خاتون رہنما کی گزشتہ روز ضمانت منظور ہوئی تھی۔ تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ کو 4 روز بعد ڈسٹرکٹ جیل سے رہا کردیا گیا۔ رہائی کے بعد پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ کو 4 روز بعد ڈسٹرکٹ جیل سے رہا کردیا گیا۔ عالیہ حمزہ کی دو روز قبل عدالت سے ایک لاکھ مچلکوں کے عوض ضمانت ہوئی تھی، انہیں گرفتاری کے بعد اڈیالہ سے جہلم جیل منتقل کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ عالیہ حمزہ ودیگر کےخلاف 18 اپریل کو تھانہ ایئرپورٹ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، عدالت نے 19 اپریل کو عالیہ حمزہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا.

عالیہ حمزہ ملک 18 اپریل کو ورکرز کنونشن سے خطاب کے لیے راولپنڈی کے نورانی محلہ پہنچی تھیں، جہاں سے انہیں گرفتار کر کے ویمن پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا تھا۔

(جاری ہے)

عدازاں عالیہ حمزہ ملک اور کارکنان کو گرفتار کر کے تھانہ سول لائن راولپنڈی شفٹ کر دیا گیا تھا۔

عالیہ حمزہ کو 19 اپریل کو راولپنڈی کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں سول جج ممتاز ہنجرا نے کیس کی سماعت کی۔ پولیس نے عالیہ حمزہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے کی استدعا کی تھی جس پر عدالت نےسماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا اور بعدازاں پولیس کی درخواست منظور کرتے ہوئے عالیہ حمزہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔
                                                                                         

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عالیہ حمزہ کو اپریل کو دیا گیا گیا تھا رہا کر

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • متنازع اے این ایف بھرتی اشتہار کی معطلی کی درخواست پر عدالت کا تحریری حکم نامہ جاری
  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ