وزیراعظم کی پی آئی اے نجکاری کا عمل شفاف اور سرمایہ کاروں کو اعتماد میں لینے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف نے پی آئی اے کی نجکاری کا پوراعمل شفاف بنانے اور سرمایہ کاروں کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کی ہے۔
قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری پر جائزہ اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ہوا، جس میں نیلامی کے طریقہ کار، درکار مدت اور نیلامی میں شرکت کے لیے شرائط سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے پی آئی اے کی نجکاری میں شفافیت کو کلیدی اہمیت دینے اور مجوزہ معینہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ شہباز شریف نے پی آئی اے کی نجکاری کے لیے روڈ شوز کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کو بھی مکمل اعتماد میں لینے کی ہدایت کی۔
شہباز شریف نے اجلاس میں کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کے طریقہ کار میں شفافیت کو مرکزی اہمیت دی جائے۔ شفافیت یقینی بنانے کے لیے پی آئی اے سمیت آئندہ تمام سرکاری کمپنیوں کی نجکاری براہ راست ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر نشر کی جائے۔
اجلاس میں دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ انویسٹر آؤٹ ریچ کے لیے کنسلٹنٹ کے ساتھ مل کر ایک جامع اسٹریٹجی بنائی گئی ہے اور اس پر مکمل عمل درآمد ہو رہا ہے۔
پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق اجلاس میں وفاقی وزرا خواجہ محمد آصف، احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، مشیران محمد علی، سید توقیر شاہ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، نیشنل کوآرڈینیٹر خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی آئی اے کی نجکاری شہباز شریف کی ہدایت کے لیے
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔