شریف خاندان کے اقتدار میں ملکی سالمیت خطرے میں پڑجاتی ہے ، پی ٹی آئی رہنما
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
شریف خاندان بھارت کے خلاف سخت ایکشن نہیں لے سکتا یہ کاروبار کرتے ہیں
نیشنل سیکورٹی کے معاملات میں عمران خان کا شامل ہونا ضروری ہے، میڈیا سے گفتگو
پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے حکومت پر سخت تنقید کی ہے جب کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا ہے کہ شریف خاندان جب بھی اقتدار میں آتا ہے ملک کی سالمیت خطرے میں پڑجاتی ہے ۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں سیاستدان موجود ہیں، ہمیں قومی ہم آہنگی چاہیے ، اپ کا قومی لیڈر جیل میں پڑا ہوا ہے ، ہماری قومی آہنگی آج نہیں رہی کیونکہ آپ نے ایک قومی لیڈر کو جیل میں ڈالا ہوا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ آپکے ملک کی اکانومی ختم ہو چکی ہے ، شریف خاندان بھارت کے خلاف سخت ایکشن نہیں لے سکتا یہ اُن کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں، سخت ایکشن صرف ایک شخص لے سکتا ہے اور وہ بانی پی ٹی آئی ہے ۔عمر ایوب خان نے کہا کہ شریف خاندان جب بھی اقتدار میں آتا ہے ملک کی سالمیت خطرے میں پڑ جاتی ہے ، نواز شریف 1997 میں وزیراعظم اور میرے والد وزیرخارجہ تھے ، بھارت کا Mig 25 اسلام آباد کے اوپر اُڑا اور دو دو سانک دھماکے کیے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ میرے والد نے ایئرچیف کو کا فائٹر جیٹس دہلی کے اوپر سے اڑا سکتے ہیں تو انہوں نے وزیراعظم کی اجازت مانگی، نواز شریف کی اُس وقت کانپیں ٹانگ گئی تھیں، ایٹمی دھماکوں میں میرے والد سمیت پانچ لوگ تھے جنہوں نے کہا ایٹمی دھماکے ہوں گے ، وزیراعظم نواز شریف صبح کلنٹن سے بات کر رہے تھے کہ وہ ڈیل چاہتے ہیں۔عمر ایوب نے کہا کہ میرے والد نے کہا کہ نیوکلیئر ڈیوائسز سیل ہو چکی ہیں اب چاغی میں دھماکے ضرور ہونگے ۔عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ہمیشہ بتایا گیا کہ ہندوستان سے اپنی حفاظت کرنی ہے ، کل جو ایمرجنسی صورتحال پیدا ہوئی وزیراعظم اگر سنجیدہ ہو تو وہ اپوزیشن لیڈرز کو فون کرے ، وزیراعظم اپیل کرے ، آپ اڈیالہ جیل جائیں اور عمرآن خان سے فوری ملاقات کریں۔ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروا کر ایک Consensus بنایا جائے ، اپوزیشن لیڈرز اس وقت ججوں کے سامنے بھٹک رہے ہوں اور جج صاحب کہتے ہیں 12 بجے آفس سے رپورٹ منگوا رہا ہوں۔بابر اعوان نے کہا کہ مقدمات کے آزاد ٹرائل کئے جائیں، تمام سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کو ختم کیا جاہے ، میڈیا کو اذاد کیا جائے ، پاکستان میں فوری طور پر نئے شفاف انتخابات کروائے جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ سارے قوم میں 80-75 فیصد عوام بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہے ، حکومت انکھ کھولیں فاشزم کو ختم کرے ، ترجیح بنیادوں پر پرانے مقدمات کو ختم کیا جائے ، ماڈل ٹاون ون اور ٹو کا مقدمہ ابھی تک زہر التوا ہیں۔بابر اعوان نے کہا کہ منتخب عدالتوں سے منتخب مقدمات پر فیصلے کروائے جارہے ہیں، جلد فراہمی انصاف میں انصاف ختم ہوتا ہے ۔سپریم کورٹ کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے لطیف کھوسہ نے کہا کہ ریاست کے چاروں ستونوں کو برباد کر دیا گیا، ہمارا لیڈر عوام کے دلوں کی دھڑکن ہے ، اب انکے ساتھ ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، وہاں پر عدالتوں احکامات پر ایک کرنل کے احکامات بھاری پڑ جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عوام، ملک اور قانون و آئین کیلئے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں، یہ سب کسی کو بھی قبول نہیں ہے ، سندھ کی آج عوام، کسان ، وکلا سب سڑک پر ہیں، آج بھارت کو جرات ہوئی ہے کہ یکطرفہ سندھ طاس معاہدہ ختم کر دیا، ہمارے اتاشی باہر نکال دیے ، اتنی جرات پہلے قابل نہیں تھے ۔لطفیف کھوسہ نے کہا کہ اسی حکومت میں یہ سب ہوا، بانی پی ٹی آئی کو رہا کیا جائے ، عوام صرف انکے ساتھ کھڑی ہے ۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ 26 ترمیم جس انداز ڈھٹائی سے کی گئی سب کے سامنے ہیں، اختر منگل پارلیمنٹ میں اپنے سینیٹر کو تلاش کر رہے تھے ، ہمارے ایم این ایز کو لالچ دی گئی، ہمارے ایم این ایز کو اٹھایا گیا۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ یہ جھوٹ کا نظام ہے کفر کا نظام ہوتا ہے ، لوگوں پر گولیاں چلائیں گئیں،ہم نے پاکستان کا پانی دشمن سے چھیننا ہے ، نیشنل سیکورٹی کے تمام معاملات میں عمران خان کا شامل ہونا اہم ہے ، بانی پی ٹی آئی جیل میں ہے ۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اب خاموش رہنے کا وقت نہیں، ہم بہت جلد باہر نکلیں گے ہم معمالات کو افہام و تفہیم سے حل چاہتے ہیں۔ترجمان عمران خان نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ ملک کی بقا کیلئے بانی پی ٹی کا وجود لازم ہے اس حکومت کی کوئی پالیسی نہیں، سندھ بلوچستان کے حالات سامنے ہیں ، اج سلامتی کونسل کا اجلاس بغیر خان کے ہو رہا ہے ،8 کو قوم نے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ دیا، آپ بانی پی ٹی آئی کو مائنس کرنا چاہتے ہیں نہیں کرسکتے ، دس مرتبہ ہمیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات سے روکا گیا۔پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا نے کہا کہ عمران خان کی خواہش ہے کہ قوم کے سامنے لاقانونیت کی صورتحال رکھی ہے ، جواہش ہے کہ یہاں قبرستان کی خاموشی ہو، میرے ساتھ لطیف کھوسہ بابر اعوان نیاز اللہ نیازی علی بخاری موجود ہیں، 26 ترمیم کیساتھ جو رہا ہے وہ عوام کے سامنے رکھیں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کا آئین و قانون سے کوئی تعلق نہیں، اج قوم و ریاست کے بیچ کوئی رابطہ نہیں، مجھے جیل سے دومیل دور روکا جاتا ہے ، توہین عدالت کی درخواست کو لگنے میں مہینہ لگ جاتا ہے ۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ انقلاب قومیں لاتی ہیںاگر مقتدر حلقوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے بہت جلد فیصلہ کریں گے ، اج ہر جگہ لوگ پانی لوٹے جانے کے خوف سے خوفزدہ ہیں، ضرورت ہے کہ ملک لے لیڈر کو رہا کیا جائے ، عمران خان اور قوم کے بیچ آنے والے کو قوم معاف نہیں کرے گی، پاکستان کے عوام کی بات سنو۔
.ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
بانی پی ٹی آئی اکیلا مجرم نہیں اس کو لانے والے بھی برابر کے شریک ہیں:نواز شریف
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعظم نوازشریف نے ضمنی الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے والے امیدواروں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ نفرت، جھوٹ، گالی گلوچ، منافقت، بدتمیزی، بدتہذہبی، دنگا فساد، فتنے کو بری طرح شکست ہوئی۔ہم نے عوامی خدمت کا ریکارڈ قائم کیا، پاکستان کو اخلاقی، معاشرتی دیوالیہ پن سے بچایا ہے،الیکشن کا بائیکاٹ کرنے والے خود الیکشن میں حصہ لے کر ہار گئے۔ بانی پی ٹی آئی اکیلا مجرم نہیں، اس کو لانے والے بھی برابر کے شریک ہیں۔
صدرمسلم لیگ ن نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں ایک بھی ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا گیا، ملک میں صرف تباہی آئی، بدتہذیبی کا کلچر عام کیا گیا، خارجہ امور کا دیوالیہ نکالا گیا، میرٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں، ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچ گیا تھا۔ترقی کی رفتار جاری رہتی تو آج دنیا میں ہمارا ایک مقام ہوتا۔
نوازشریف کا کہناتھا کہ 2017میں ہمارا گروتھ ریٹ بڑھ رہا تھا،3فیصد پرمہنگائی تھی، یہ 39فیصد پر مہنگائی کو لے کرگئے، پھر 4 فیصد پر آ گئی ہے، انہوں نے جو حالات پیدا کیے اس کا خمیازہ ہر پاکستانی بھگت رہا ہے، 1999میں پرویز مشرف نے مارشل لا لگایا، 1999میں سعودی ریال کا ریٹ 11روپے تھا، ہمارے جانے کے بعد ملک میں بہت تباہی پھیری گئی، ملک کا ستیاناس کر کے رکھ دیا گیا، بدتمیزی،بدتہذہبی،دنگافساد،فتنہ فسادکے ذریعے ملک کا دیوالیہ نکال دیا۔
نوازشریف کا کہناتھا کہ وہ ترقی کی رفتار رہتی تو آج پتا نہیں کہاں پہنچ چکے ہوتے، آئی ایم ایف اور زرمبادلہ کےذخائر کی کوئی فکر نہ ہوتی، زرمبادلہ ذخائر،آئی ایم ایف کا فکر ہی ہمیں لے کر بیٹھ گیا ہے، کئی فیصلے ہم خود نہیں کر سکتے،غیروں کے ہاتھ میں ہیں، انہوں نے ہی ملک کے فیصلے غیروں کے ہاتھ میں دیئے، 2018سے 2022 تک جو ہوتا رہا وہ ساری ذمہ داری ان کے سر ہے۔
سابق وزیراعظم کا کہناتھا کہ لوگوں نے آپ کو ووٹ کارکردگی کی بنیاد پر دیا، سب نے ملک کر شہبازشریف اور مریم نواز کا ہاتھ بٹانا ہے، ڈیڑھ سال میں عوامی خدمت کا ریکارڈ قائم کیا گیا ہے، اکانومی کو گڑھے سے پھر باہر نکال دیاگیا، پاکستان کو ڈیفالٹ اور بینک کرپسی سے بچایا، پاکستان اقتصادی، اخلاقی،معاشرتی،معاشی دیوالیہ ہوچکا تھا، پاکستان میں انسانیت کا بھی دیوالیہ پن کردیا گیاتھا، بڑوں کا ادب اور چھوٹوں کا پیار ختم کر دیا گیا تھا، کرکٹ کھیلنے کیلئے آئے تھے،وہی کھیل 5سال تک کھیلتے رہے، ملک اور قوم کا دیوالیہ نکال دیا گیا،خارجہ امور کا دیوالیہ نکال دیا گیا۔
ان کا کہناتھا بانی پی ٹی آئی اکیلا نہیں،اس کو لانے والے اس سے بڑے مجرم تھے، بانی پی ٹی آئی کو لانے والوں سے بھی پورا پورا انصاف لینا چاہیے، ان کا بیانیہ دوسروں کو چور اور ڈاکو کہنا تھا، خود یہ چوری اور ڈاکوں میں سب سے آگے تھے، ان کی سب داستانیں سامنےآرہی ہیں، فتنہ فساد،الزام تراشی، ماردو کے بیانیہ سے قومیں ترقی کرتی ہیں؟۔
صدر مسلم لیگ کا کہناتھا کہ انہوں نے کہا الیکشن کا بائیکاٹ کریں گے، یہ کیسا بائیکاٹ ہے جس میں عمرایوب کی بیوی خود الیکشن لڑ رہی تھی؟، کیا بائیکاٹ ایسا ہوتا ہے؟ ان کے امیدوار اپنے لیڈرکی تصویریں اٹھا کر کھڑے تھے، ضمنی الیکشن میں جیتنے والوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکبادپیش کرتا ہوں، ہری پور میں ن لیگ کے امیدوار 44 ہزار کی لیڈ سے جیتے ہیں، ہر روز نیا چیف سیکرٹری آ رہا تھا،تیسرے دن نیا آئی جی آرہا تھا، ان کے دور میں کوئی مستقل مزاجی نہیں تھی،ڈھنگ کے کام نہیں ہورہے، ان کے دور میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوئے، ترقی یافتہ کام ہمیشہ مسلم لیگ ن کے دورمیں ہی ہوئےہیں، ان کی حکومت جہاں بھی تھی وہاں برے حالات تھے، شہبازشریف اور مریم نواز مجھ سے بھی آگےنکل گئے ہیں۔