Jang News:
2026-06-02@23:04:09 GMT

نواز شریف کو 26 سال قبل اقتدار سے نکالا گیا

اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT

نواز شریف کو 26 سال قبل اقتدار سے نکالا گیا

نواز شریف، شہباز شریف—فائل فوٹو

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کو 26 سال قبل 12 اکتوبر 1999ء کو اقتدار سے نکالا گیا تھا۔

اُس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے ساتھیوں کی مدد سے منتخب وزیرِ اعظم کا تختہ الٹا اور اقتدار پر قبضہ کر لیا۔

کارگل سے شروع ہونے والی تلخی نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے درمیان ایسی خلیج پیدا کی کہ پرویز مشرف کوان کے دورۂ سری لنکا سے واپسی کے دوران برطرف کر دیا گیا۔

مگر جنرل مشرف کے 4 ساتھیوں اس وقت کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل عزیز احمد، کور کمانڈر راولپنڈی جنرل محمود، ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل شاہد عزیز اور اس وقت کے ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس جنرل احسان الحق نے کراچی کے کور کمانڈر مظفر عثمانی اور دیگر کی مدد سے ناصرف نواز شریف حکومت برطرف کی بلکہ پرویز مشرف کو اقتدار سونپ دیا۔

پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا، پہلے چیف ایگزیکٹیو اور پھر صدر اور آرمی چیف بنے، دنیا ان سے ناراض تھی مگر نائن الیون نے ان کی کایہ پلٹ دی، وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مغرب کی نظر میں ہیرو بنے۔

انہوں نے ملک میں بے نظیر بھٹو اور نوازشر یف کی عدم موجودگی میں انتخابات کروا کے اپنی مطلق العنانیت پر جمہوری تڑکا لگایا۔

پرویز مشرف نے سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ سے 12 اکتوبر کے اقدامات کی توثیق لی اور کم و بیش 9 سال اقتدار پر براجمان رہے۔

انہوں نے 3 نومبر 2007ء کو اپنا اقتدار بچانے کے لیے دوسری ایمرجنسی لگائی مگر ان کی تمام کوششیں رائیگاں گئیں، وہ 18 اگست 2008ء کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

ان کے خلاف 2007ء کی ایمرجنسی کا مقدمہ چلا اور ان کی جلا وطنی کے دوران انہیں خصوصی عدالت نے سزا بھی دی، تاہم انہوں نے اس سزا کا ایک دن بھی جیل میں نہ گزارا۔

جلاوطنی کے دوران وفات ہوئی تو ان کے جسدِ خاکی کو پورے اعزاز کے ساتھ کراچی میں سپردِ خاک کیا گیا۔

جنرل (ر) پرویز مشرف کو اقتدر میں دھکیلنے والے آج بھی بقید حیات ہیں مگر کوئی جواب دینے سے قاصر ہیں۔

پارلیمنٹ اور عدالت نے 12 اکتوبر 1999ء کے غیر آئینی اقدامات کی توثیق تو کی مگر تاریخ کا فیصلہ عدالتوں اور اُس وقت کی کنٹرولڈ پارلیمنٹ کے فیصلے سے آج بھی بڑا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: پرویز مشرف نواز شریف وقت کے

پڑھیں:

چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟

پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف