دوحہ میں عرب اسلامی سربراہی اجلاس، وزیراعظم شہباز شریف کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
قطر میں منعقدہ عرب اسلامی ممالک کے ہنگامی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔
وزیراعظم نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے علیحدہ ملاقاتیں کیں۔
اس کے علاوہ انہوں نے فلسطین کے صدر محمود عباس، امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، تاجکستان اور مصر کے صدور کے ساتھ ساتھ ملائیشیا کے وزیراعظم سے بھی تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فلسطینی صدر محمود عباس کے درمیان ملاقات نہایت پرتپاک اور گرمجوش ماحول میں ہوئی، جہاں دونوں رہنماؤں نے موجودہ صورتحال پر تفصیل سے بات چیت کی۔
یاد رہے کہ یہ ہنگامی اجلاس اسرائیل کی جانب سے قطر پر حملے کی مذمت اور اس کے خطے پر مرتب ہونے والے اثرات پر غور کے لیے طلب کیا گیا ہے۔
اجلاس میں 50 سے زیادہ ممالک کے سربراہان شریک ہیں، جو اسرائیلی جارحیت اور فلسطینی عوام پر مظالم کے خلاف مشترکہ موقف اختیار کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews شہباز شریف عرب اسلامی سربراہی اجلاس ملاقاتیں وزیراعظم پاکستان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شہباز شریف عرب اسلامی سربراہی اجلاس ملاقاتیں وزیراعظم پاکستان وی نیوز شہباز شریف
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔