پاک-بھارت کشیدگی، واہگہ بارڈری کی بندش کے باوجود شہریوں کی واپسی جاری
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
لاہور:
پاک-بھارت کشیدگی کی وجہ سے واہگہ اٹاری بارڈر بند ہے تاہم بھارت سے پاکستانیوں اور یہاں سے بھارتی شہریوں کی اپنے ملک واپسی کا سلسلہ جاری رہا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق جمعے کو 191 پاکستانی شہری بھارت سے واپس پاکستان پہنچے جبکہ یہاں سے 287 بھارتی شہر ی واپس لوٹ گئے ہیں جبکہ غیر ملکی شہریوں سمیت این آر آئی، لانگ ٹرم ویزا اور نو اوبجیکشن ریٹرن ٹو انڈیا کی اجازت کے حامل شہریوں کو بارڈر کراس کرنے کی اجازت نہیں مل سکی۔
پاکستان اور بھارت واہگہ-اٹاری بارڈر بند کردیا ہے لیکن شہریوں کی اپنے ملک واپسی کے لیے بارڈر کھلا رہا، پاکستان میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے آنے والے بھارتی شہری معمول کی چیکنگ کے بعد واپس اپنے ملک لوٹ گئے جبکہ بھارت سے بھی 191 پاکستانی خیر وعافیت سے واپس پہنچے ہیں۔
امیگریشن ذرائع کے مطابق غیرملکیوں سمیت لانگ پاکستان کا لانگ ٹرم ویزا رکھنے والے بھارتی شہریوں، انڈیا کا نو اوبجیکشن ریٹرن ٹو انڈیا کی اسٹیمپ کے حامل ویزا رکھنے والے پاکستانیوں اور بھارتی نژاد غیرملکی سکھوں کو بھی بھارتی سیکیورٹی اور امیگریشن حکام کی طرف سے بارڈر کراس کرنے کی اجازت نہیں مل سکی۔
بھارتی حکام نے 18 کے قریب ایسی خواتین اور ان کی فیملیز کو پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی، جن کی شادیاں پاکستان میں ہوئی ہیں اور ایکسپریس نیوز کو موصولہ اطلاعات کے مطابق ان خواتین نے بھارتی سرحد پر احتجاج بھی کیا۔
جودھپور سے تعلق رکھنے والی افشین جہانگیر کا کہنا تھا کہ "مجھے کسی بھی قیمت پر آج اپنے بچوں کے پاس جانا ہے، میرے دو بچے اور شوہر پاکستان میں ہیں، ہم 900 کلومیٹر کا سفر طے کر کے یہاں پہنچے ہیں، اگر حکومت نے شادی شدہ خواتین کے لیے کوئی پروٹوکول متعین کیا ہے تو اس پر عمل کیوں نہیں ہو رہا"۔
افشین کے مطابق وہ صرف 48 گھنٹوں کے لیے بھارت اپنے والدین سے ملنے آئی تھیں مگر اب انہیں واپس نہیں جانے دیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے علاج اور والدین سے ملاقات کے لیے صرف 45 دن کا ویزہ لیا تھا اور ان کی واپسی کی تاریخ 27 مارچ طے تھی، مگر حالات کے پیش نظر وہ جلدی واہگہ پہنچیں، تاہم بارڈر حکام نے انہیں یہ کہہ کر روک دیا کہ "یہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے"۔
اسی طرح دہلی سے آنے والی شادی شدہ خاتون شاداب نے بتایا کہ ان کے چار بچے کراچی میں ہیں، جو والدہ کی جدائی میں روتے ہیں، "میری شادی کو 15 سال ہو چکے ہیں، میں مسلسل ویزے پر پاکستان آتی جاتی رہی ہوں لیکن آج مجھے روک دیا گیا اور میرے پاس پاکستانی شہریت کا عمل زیر التوا ہے"۔
افشین اور شاداب دونوں نے شکایت کی کہ صرف اس بنیاد پر کہ ان کے پاس بھارتی پاسپورٹ ہے، انہیں واپس پاکستان جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔
افشین کا کہنا تھا کہ "میرے بچے پاکستانی شہری ہیں، میرا شوہر پاکستانی ہے، میں خود پاکستانی شہریت کے لیے کاغذی کارروائی مکمل کر چکی ہوں لیکن مجھے آدھی شہریت کا طعنہ دیا جا رہا ہے"۔
خواتین نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے سفر پر ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے خرچ کیے لیکن اب انہیں بارڈر سے واپس جانے کا کہا جا رہا ہے، "کیا قانون یہ اجازت دیتا ہے کہ ماں اپنے بچوں سے جدا ہو جائے، ہم نے کوئی غلط کام نہیں کیا، ہمارا صرف یہ قصور ہے کہ ہم سرحد پار کی شادی شدہ خواتین ہیں۔
افشین کا مزید کہنا تھا کہ "جو دہشت گرد ہیں، ان کو سخت سے سخت سزا دی جائے لیکن ان کے جرم کی سزا ہمیں کیوں مل رہی ہے اور عام لوگ کیوں متاثر ہوں۔
بھارتی نژاد سکھ فیملی کو بھی بھارتی حکام نے واپس انڈیا جانے کی اجازت نہیں دی، جس کے بعد وہ فیملی واپس ننکانہ صاحب لوٹ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارتی نژاد سکھ فیملی جس کا تعلق کینیڈا سے ہے وہ واہگہ کے راستے انڈیا جانا چاہتی تھی تاہم انڈین حکام کی طرف سے انہیں کہا گیا کہ وہ دبئی کے راستے بذریعہ ہوائی جہاز بھارت جاسکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی اجازت نہیں کہنا تھا کہ کے مطابق کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔