پاکستان کی معروف ٹک ٹاکر اور اینکر سجل ملک جو گزشتہ دنوں جعلی نازیبا ویڈیو لیک کا شکار ہوئی تھیں، نے اپنے اور مشہور اداکار عمران اشرف کے درمیان تعلق کا انکشاف کیا ہے۔

ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں بات کرتے ہوئے سجل ملک نے بتایا کہ عمران اشرف دراصل ان کی والدہ کے کزن ہیں۔ اس طرح ان کا اداکار عمران کے ساتھ خاندانی رشتہ ہے۔

سجل نے اپنے انٹرویو میں تفصیل بتاتے ہوئے کہا، ’’عمران اشرف ہمارے قریبی رشتے دار ہیں۔ وہ میری والدہ کے کزن ہیں اور خاندانی تقریبات میں اکثر شریک ہوتے ہیں۔‘‘ تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ انہوں نے کبھی بھی اس رشتے کو اپنے کیریئر کے لیے استعمال نہیں کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سجل نے بتایا کہ وہ عمران اشرف سے کبھی ذاتی طور پر نہیں ملیں، نہ ہی کسی شو میں ان کی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے ایک موقع پر انسٹاگرام کے ذریعے عمران سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی جب وہ اداکاری میں قدم رکھنا چاہتی تھیں۔

سجل نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ’’میں نے انہیں میسج کیا اور اپنی والدہ کی تصویر بھی بھیجی۔ انہوں نے میری سفارش کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن بدقسمتی سے میرا انسٹاگرام اکاؤنٹ ہیک ہوگیا اور وہ رابطہ منقطع ہوگیا‘‘۔

سجل کے مطابق وہ اصل میں اداکارہ بننا چاہتی تھیں، لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ان کا اینکرنگ کا سفر ایک اتفاق سے شروع ہوا جو اب ایک کامیاب کیریئر کی شکل اختیار کرچکا ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انہوں نے

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • طاہرہ سید کے انتقال کی افواہیں، گلوکارہ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا
  • کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری