سری لنکن کرکٹر ہنی مون چھوڑ کر آئی پی ایل کھیلنے پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
سن رائزرز حیدرآباد کے اوور سیز پلئیر کامندو مینڈس شادی کے بعد ہنی مون چھوڑ کر آئی پی ایل کھیلنے پہنچ گئے۔
سری لنکا کے ابھرتے ہوئے آل راؤنڈر کامندو مینڈس آئی پی ایل کے رواں سیزن میں سن رائزرز حیدرآباد کی نمائندگی کررہے ہیں، انہوں نے چنائی سپر کنگز کیخلاف میچ میں ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔
گزشتہ روز چنائی کو اپنے ہوم گراؤنڈ پر سن رائزرز حیدرآباد نے 5 وکٹوں سے شکست دی، اس میچ میں دھونی کی ٹیم محض 154 رنز بناکر پویلین لوٹ گئی جبکہ حریف نے فرنچائز نے ہدف محض 18.
مزید پڑھیں: دھونی کی فرنچائز کی مسلسل شکستوں نے بالی ووڈ اداکارہ کو رُلا دیا
سن رائزرز حیدرآباد کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر 9 میچز میں 3 فتوحات اور 6 شکستوں کیساتھ 8ویں پوزیشن پر موجود ہے۔
مزید پڑھیں: پہلگام واقعہ؛ بھارتی چینل نے پی ایس ایل کی لائیو اسٹریمنگ معطل کردی
سری لنکن اسٹار کی مارچ 2025 میں نشنی کے ساتھ شادی کی تقریب ہوئی اور اپنا مختصر ہنی مون منانے کے بعد فوراً آئی پی ایل کھیلنے پہنچ گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ا ئی پی ایل
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔