ناپسندیدہ قرار دیے گئے بھارتی سفارتی حکام لاہور روانہ، واہگہ سے آج بھارت واپسی
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
بھارتی ہائی کمیشن نے پاکستان کی جانب سے ناپسندیدہ قرار دیے گئے اپنے سفارتی عملے کی واہگہ بارڈر کے راستے بھارت واپسی کے لیے حکومت پاکستان کو تحریری درخواست کردی، جس میں ان کے لاہور سے واہگہ بارڈر کے ذریعے سفر کی اجازت مانگی گئی ہے۔نجی ٹی وی
کے مطابق پاکستان نے بھارتی سفارت کاروں کو لاہور کے سفر کی اجازت دے دی۔سفارتی ذرائع کے مطابق بھارت کی جانب سے تحریری درخواست میں وزارت خارجہ سے اجازت مانگی گئی کہ پاکستان کی جانب سے ناپسندیدہ قرار دیے گئے سفارت کاروں کو لاہور کے ذریعے واہگہ بارڈر کے راستے واپس بھارت جانے کے لیے سفر کی اجازت دی جائے۔حکومت پاکستان کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد بھارت کے ناپسندیدہ قرار ددیے گئے سفارتی حکام لاہو روانہ ہوگئے۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کے فوجی، بحری اور فضائی سفارت کار آج واہگہ کے راستے بھارت واپس لوٹ جائیں گے۔پاکستان نے بھارت کے دفاعی، ایئر، نیول اتاشیوں اور معاون اسٹاف کو ناپسدیدہ شخصیات قرار دیا تھا۔
واہگہ سے پاکستانیوں کی آمد، بھارتیوں کی واپسی
پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی بڑھنے کے بعد دونوں ملکوں کے شہریوں کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔واہگہ بارڈر سے گزشتہ روز بھارت جانے اور پاکستان واپس آنے والوں کے اعداد و شمار ڈان نیوز نے حاصل کرلیے۔واہگہ بارڈر حکام کے مطابق اعداد و شمار کے مطابق 288 بھارتی شہری واپس بھارت گئے، پاکستان نے 3 روز پہلے سارک ویزا استثنیٰ پر موجود بھارتی شہریوں کو 48 گھنٹوں میں پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔سرحدی حکام کا کہنا ہے کہ بھارت سے 190 پاکستانی شہری بھی وطن واپس لوٹے ہیں، بھارت نے سارک ویزا کے تحت استثنیٰ کے حامل پاکستان شہریوں کو 48 گھنٹوں تک ملک چھوڑنے کا کہا تھا۔واہگہ بارڈر پر دیگر ٹرانزٹ اور تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل کردی گئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ناپسندیدہ قرار واہگہ بارڈر کی جانب سے کے مطابق بھارت کے
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔