پاک بھارت کشیدگی: اب تک کتنے پاکستانی بھارت اور بھارتی شہری پاکستان چھوڑ گئے؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
لاہور:پاک بھارت کشیدگی کی وجہ سے واہگہ اٹاری بارڈر بند ہے تاہم بھارت سے پاکستانیوں اور یہاں سے بھارتی شہریوں کی اپنے اپنے ملک واپسی کا سلسلہ جاری رہا، جمعے کے روز 191 پاکستانی شہری انڈیا سے واپس پاکستان پہنچے جبکہ یہاں سے 287 بھارتی شہر ی واپس لوٹ گئے۔
غیرملکی شہریوں سمیت این آر آئی، لانگ ٹرم ویزا اور نو اوبجیکشن ریٹرن ٹو انڈیا کی اجازت کے حامل شہریوں کو بارڈر کراس کرنے کی اجازت نہیں مل سکی۔ بھارتی حکام نے 18کے قریب ایسی خواتین اور ان کی فیملیز کو پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی جن کی شادیاں پاکستان میں ہوئی ہیں۔
ایکسپریس نیوز کو موصولہ اطلاعات کے مطابق ان خواتین نے بھارتی بارڈ ر پر احتجاج بھی کیا، جودھپور سے تعلق رکھنے والی افشین جہانگیر کا کہنا تھا، “مجھے کسی بھی قیمت پر آج اپنے بچوں کے پاس جانا ہے، میرے دو بچے اور شوہر پاکستان میں ہیں۔
افشین کے مطابق وہ صرف 48 گھنٹوں کے لیے بھارت اپنے والدین سے ملنے آئی تھیں مگر اب انہیں واپس نہیں جانے دیا جا رہا، دہلی سے آنے والی شادی شدہ خاتون شاداب نے بتایا کہ ان کے چار بچے کراچی میں ہیں جو والدہ کی جدائی میں روتے ہیں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔