پہلگام واقعہ؛ سابق بھارتی کپتان بھی مودی کی زبان بولنے لگے
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
پہلگام واقعہ کو جواز بناکر بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) اپنی حکومتی ایما پر ایک مرتبہ پھر کھیل میں پھر سیاست لے آیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق بھارتی کپتان سارو گنگولی نے پہلگام واقعہ پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ہندوستان کو پاکستان کے ساتھ تمام کرکٹ تعلقات ختم کر دینے چاہئیں۔
بھارتی نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق بھارتی کپتان سارو گنگولی نے پاکستان کیخلاف زہر اُگلتے ہوئے کہا کہ پاکستان کیساتھ 100 فیصد کرکٹ تعلقات کو ختم کردینا چاہیے۔
مزید پڑھیں: کھیل میں سیاست؛ پہلگام واقعہ! "کرکٹ نہیں کھیلیں گے"
اس موقع پر بھارتی بورڈ کے نائب صدر راجیو شکلا کا کہنا تھا کہ ہم پہلگام واقعہ کے متاثرین کے ساتھ ہیں، ہماری حکومت جو کہے گی، ہم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کیساتھ دوطرفہ سیریز نہیں کھیلیں گے لیکن آئی سی سی ایونٹس میں پاکستان کیخلاف ہماری ٹیم میدان میں اُترے گی۔
مزید پڑھیں: بھارت میں ایشیاکپ، ٹی20 ورلڈکپ اور چیمپئینز ٹرافی کا مستقبل کیا ہوگا؟
دوسری جانب بھارتی بورڈ کے بیان کے بعد ایشیاکپ اور چیمپئینز ٹرافی جیسے ٹورنامنٹس پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
ادھر بھارتی بورڈ کے یکطرفہ اقدامات پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی طرف سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: "میں تمہیں مار دوں گا" بھارتی ہیڈکوچ کو قتل کی دھمکی
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 2012 میں آخری بار ون ڈے سیریز کھیلی گئی تھی جس کے بعد سے دونوں ٹیمیں محض آئی سی سی ایونٹس میں ایک دوسرے کے مدمقابل آتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پہلگام واقعہ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔