پاکستان مخالف بھارتی پروپیگنڈے پر پاکستانی شوبز شخصیات برہم
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں حالیہ حملے کے بعد بھارتی میڈیا اور حکومت کی جانب سے پاکستان مخالف پروپیگنڈے پر پاکستانی شوبز شخصیات نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
اداکار، پروڈیوسر اور ہدایت کار یاسر نواز نے اپنی انسٹاگرام ویڈیو میں بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ غلط معلومات اور نفرت پھیلانے سے باز آئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
View this post on InstagramA post shared by Yasir Nawaz (@itsyasirnawaz)
اداکار یاسر حسین نے بھی بھارتی میڈیا کی جانب سے نفرت انگیز بیانیے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھی ایٹمی طاقت ہے اور نفرت پھیلانے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی قوم ملکی معاملات میں متحد ہے اور پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔
پروڈیوسر، ہدایت کار اور اداکار شمعون عباسی نے بھارتی میڈیا کی جانب سے پہلگام واقعے کے بعد غلط خبریں پھیلانے پر تنقید کی۔ انہوں نے مثال دی کہ بھارتی میڈیا نے ایک زندہ شادی شدہ جوڑے کو ہلاک قرار دیا، جو بعد میں خود سامنے آ گیا۔ شمعون عباسی نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو دہشت گردی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
View this post on InstagramA post shared by Shamoon Abbasi (@being_shamoon_)
گلوکار و اداکار فرحان سعید نے بھارتی میڈیا کے منفی رویے پر انسٹاگرام اسٹوری میں اظہار برہمی کیا اور کہا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری بھارتی میڈیا پر عائد ہوگی۔
View this post on InstagramA post shared by Niche Lifestyle (@nichelifestyle)
گلوکار عمیر جسوال نے بھارتی میڈیا کی جانب سے ہلاک شدہ قرار دیے گئے جوڑے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اسے بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کا پروپیگنڈا قرار دیا۔
اس کے علاوہ دیگر شوبز شخصیات اداکارہ ماہرہ خان، صبا قمر، فواد خان اور ہانیہ عامر نے بھی پہلگام واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔ تاہم، اداکارہ مشی خان نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ شخصیات فلسطین میں ہونے والے قتل عام پر خاموش رہیں لیکن پہلگام واقعے پر افسوس کر رہی ہیں۔
پاکستانی شوبز شخصیات نے بھارتی میڈیا اور حکومت کے منفی پروپیگنڈے کے خلاف متحد ہو کر آواز بلند کی ہے اور بھارتی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی حکومت اور میڈیا کے بیانیے کو سمجھیں کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے بھارتی میڈیا شوبز شخصیات ہوئے کہا کہ کی جانب سے کرتے ہوئے
پڑھیں:
مفرور یوٹیوبرز عادل راجہ اور شاہد قاضی کا پاکستان مخالف بیانیہ بے نقاب
پاکستان سے مفرور عادل راجہ اور شاہد قاضی کی ایک پوڈکاسٹ میں سامنے آنے والے خود ساختہ اور من گھڑت الزامات کو پاکستان مخالف پروپیگنڈا اور مبینہ طور پر دشمن کے ایجنڈے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان دعوؤں کے مطابق یہ بیانیے حقائق کے برعکس ہیں اور ان کا مقصد ریاستی اداروں اور ملکی سلامتی کے نظام کو متنازع بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یوٹیوبر عادل راجا کا گھناؤنا چہرہ پھر بے نقاب، اسرائیلی اخبار کو پاکستان مخالف انٹرویو دے ڈالا
عادل راجہ کے حوالے سے مؤقف میں کہا گیا ہے کہ انہیں بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر کیس میں برطانوی عدالت کی جانب سے سرعام جھوٹ بولنے اور بہتان تراشی پر سخت فیصلے کا سامنا کرنا پڑا۔ دعوے کے مطابق عدالت نے انہیں جھوٹا قرار دیتے ہوئے معافی نامہ اور اقرار نامہ اپنی تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شائع کرنے کا حکم دیا، جس کے بعد ان کی ساکھ شدید متاثر ہوئی۔ اسی تناظر میں ان کی حالیہ گفتگو کو بھی ناقابلِ اعتبار قرار دیا جا رہا ہے۔
مؤقف میں مزید کہا گیا ہے کہ فوج کے سیاسی کردار اور کرپشن سے متعلق بیانیے زمینی حقائق کے برعکس ہیں، جبکہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے مسلسل کردار ادا کر رہی ہیں۔ دعوے کے مطابق اداروں پر سیاسی ناکامیوں کا الزام لگانا اور بیرونی ایجنڈے کے تحت بیانیہ تشکیل دینا قابلِ مذمت عمل ہے، جبکہ فوج میں احتسابی نظام کے تحت اندرونی معاملات پر کارروائی کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
بلوچستان کے حوالے سے پیش کیے جانے والے دعووں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں چمن کو کینٹونمنٹ بنانے اور اسمگلنگ سے متعلق الزامات کو من گھڑت قرار دیا گیا ہے۔ مؤقف کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی کارروائیوں سے اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خاتمے میں مدد ملی ہے، اور ایسے بیانیے دراصل ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔
منشیات کے کاروبار اور مبینہ پشت پناہی سے متعلق الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس ناسور کے خلاف فرنٹ لائن پر موجود ہیں اور ریاستی وسائل ملک کے دفاع اور انسداد جرائم کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
چین اور پاکستان کے اقتصادی تعلقات اور سی پیک منصوبے پر تنقید کو بھی ایک منظم پروپیگنڈا قرار دیا گیا ہے۔ مؤقف کے مطابق سی پیک ایک اہم ترقیاتی منصوبہ ہے جس سے لاکھوں افراد کے روزگار اور ملکی معیشت کا براہِ راست تعلق ہے، جبکہ اس کے خلاف بیانیے بیرونی دباؤ اور مفادات کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:یوٹیوبر عادل راجہ کی مشکلات کم نہ ہوئیں، لندن ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد
آئی ایس آئی اور ایم آئی جیسے حساس اداروں کے درمیان اختلافات سے متعلق دعووں کو بھی سختی سے مسترد کیا گیا ہے اور اسے ذہنی اختراع قرار دیا گیا ہے، جبکہ مؤقف میں کہا گیا ہے کہ یہ ادارے ملک دشمن عناصر کے خلاف متحد ہو کر کام کر رہے ہیں۔
آخر میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے خلاف منفی بیانیہ اپنانے والے عناصر بیرون ملک بیٹھ کر بے بنیاد الزامات پھیلا رہے ہیں، جبکہ پاکستان کی عوام اور ادارے متحد ہو کر ہر قسم کی سازش کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور ملک ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان مخالف شاہد قاضی عادل راجہ