پوپ فرانسس کی آخری رسومات جاری؛ عالمی رہنماؤں سمیت ہزاروں افراد کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
ویٹیکن سٹی میں پوپ فرانسس کی آخری رسومات جاری ہیں جس میں دنیا بھر سے سربراہان مملکت، سیاسی رہنماؤں اور معزز شہری شریک ہیں۔
آخری رسومات سینٹ پیٹرز باسلیکا میں جاری ہیں جہاں مذہبی روایات کے مطابق خصوصی دعاؤں اور عبادات کا اہتمام کیا گیا۔
پوپ کی آخری رسومات شروع کرنے سے پہلے سینٹ پیٹرز باسیلیکا کی گھنٹیاں بجائی گئیں۔
کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس کی آخری رسومات کا آغاز ہوگیا۔
اس موقع پر ویٹیکن سٹی کی سیکیورٹی سخت کی گئی ہے، جس میں 2 ہزار پولیس اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔
پوپ فرانسس کی آخری رسومات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، میلانیا ٹرمپ، برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر، فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون، اور یوکرین کے صدر ویلادیمیر زلنسکی سمیت اہم شخصیات شریک ہیں۔
آخری رسومات کی ادائیگی کے بعد پوپ فرانسس کی تدفین سانتا ماریا میگیور کے قبرستان میں کی جائے گی۔
جس کے لیے پوپ فرانسس کے تابوت کو سینیٹ پیٹرز باسیلیکا سے سینیٹ پیٹرز اسکوائر پہنچا دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پوپ فرانسس کی ا خری رسومات
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔