پاکستان اپنی سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا: طہٰ قریشی
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
لندن :ممبربرٹش ایمپائراور فورم فار دی انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین طہٰ قریشی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ایک انتہاپسند لیڈر ہے جس کے دورِ اقتدار میں بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں پر ظلم و ستم میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مودی نے ماضی میں گجرات کے فسادات کے دوران مسلمانوں کا سرعام قتل عام کرایا اور اب اس کی پالیسیوں کے باعث پورے بھارت میں انتہا پسندی اپنے عروج پر ہے ۔
طہٰ قریشی نے کہا کہ بھارت کو پلوامہ واقعے اور ابھی نندن کے انجام سے سبق حاصل کرنا چاہیے تھا، لیکن افسوس کہ مودی اپنی جارحانہ اور انتہا پسندانہ روش سے باز نہیں آیا۔
انہوں نے سخت الفاظ میں خبردار کیا کہ مودی یاد رکھے کہ آج کا پاکستان 1971ء والا پاکستان نہیں ہے۔ پاکستان اب ایک ایٹمی طاقت ہے اور اپنی سالمیت اور خودمختاری کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔
اگر بھارت نے کسی قسم کی دراندازی یا جارحیت کی کوشش کی تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت پوری پاکستانی قوم، تمام سیاسی جماعتیں اور پاک فوج دشمن کے خلاف ایک پیج پر ہیں۔ پاکستان کے عزم اور اتحاد کے سامنے بھارت کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔
طہٰ قریشی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت کے اندر جتنی علیحدگی پسند تحریکیں سرگرم عمل ہیں، وہ سب پاکستان کی حمایت میں کھڑی ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوتیں بھی موجودہ حالات میں بھارت کی پاکستان مخالف پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔آخر میں طہٰ قریشی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کی انتہاپسندانہ پالیسیوں کا نوٹس لے اور جنوبی ایشیا میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار