اسلام آباد(طارق محمودسمیر)وفاقی حکومت نے نئی نہروں کی تعمیرکے منصوبے کو موخرکرتےہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ صوبوں کے ساتھ مکمل اتفاق رائے کے قیام کیلئےاس منصوبے پر کوئی پیشرفت نہیں کی جائے گی، ارسا واٹر ایویلیبیلٹی سرٹیفکیٹ واپس کرنے کافیصلہ، منصوبہ بندی ڈویژن اور ارسا کوتمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کی ہدایت کردی گئی،مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پہلگام حملے کے بعد بھارتی یکطرفہ غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی بھرپور مذمت ،کونسل نے قومی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے ممکنہ بھارتی جارحیت اور مس ایڈونچر کے تناظر میں پورے ملک و قوم کے لئے اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا 52 واں اجلاس ہوا ۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف ، وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام ، چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی ۔اعلامیہ کے مطابق وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کی باہمی رضا مندی کے بغیر کوئی نئی نہریں تعمیر نہیں کی جائیں گی۔ یہ طے پایا ہے کہ جب تک تمام صوبوں کے درمیان باہمی ہم آہنگی پیدا نہیں ہوتی، وفاقی حکومت نہروں کے منصوبے پر مزید پیش رفت نہیں کرے گی۔حکومت تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ایک طویل المدتی اتفاق رائے پر مبنی زرعی پالیسی اور پاکستان میں آبی وسائل کے انتظامی ڈھانچے کی ترقی کے لیے روڈ میپ تیار کر رہی ہے۔ تمام صوبوں کے آبی حقوق 1991 کے واٹر اپورشنمنٹ ایکارڈ اور 2018 کی واٹر پالیسی میں طے شدہ ہیں، جو تمام اسٹیک ہولڈرز کے اتفاق رائے سے تشکیل دی گئی تھیں۔تمام صوبوں کے خدشات کو دور کرنے اور پاکستان کی غذائی و ماحولیاتی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے، جس میں وفاق اور تمام صوبوں کی نمائندگی شامل ہوگی۔یہ کمیٹی پاکستان کی طویل المدتی زرعی ضروریات اور تمام صوبوں کے پانی کے استعمال کے لیے دونوں متفقہ دستاویزات کے مطابق حل تجویز کرے گی۔پانی ایک قیمتی وسیلہ ہے اور آئین کے معماروں نے اس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے یہ شرط رکھی کہ پانی کے تمام تنازعات کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کیا جائے گا اور کسی بھی صوبے کے تحفظات کو تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مکمل غور و فکر کے بعد دور کیا جائے گا۔2۔ مذکورہ بالا صورتحال کے پیش نظر اور مشاورت کے بعد، کونسل نے فیصلہ کیا کہ نئی نہروں کی تعمیر کے لیے 7 فروری 2024 کو دی گئی عبوری ای سی این ای سی (ECNEC) منظوری اور 17 جنوری 2024 کو ہونے والے اجلاس میں جاری کیا گیا ارسا (IRSA) واٹر ایویلیبیلٹی سرٹیفکیٹ واپس کر دیے جائیں۔ منصوبہ بندی ڈویژن اور ارسا کو ہدایت کی جاتی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کو یقینی بنائیں تاکہ قومی یکجہتی کے مفاد میں اور تمام خدشات کو دور کرتے ہوئے باہمی ہم آہنگی تک پہنچا جا سکے۔ اجلاس میں پہلگام حملے کے بعد بھارتی یکطرفہ غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی بھرپور مذمت کی گئی ،کونسل نے قومی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے ممکنہ بھارتی جارحیت اور مس ایڈونچر کے تناظر میں پورے ملک و قوم کے لئے اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیا۔ اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں کہاگیاکہ پاکستان ایک پر امن اور زمہ دار ملک ہے لیکن ہم اپنا دفاع کرنا خوب جانتے ہیں ،تمام صوبائی وزراء اعلیٰ نے بھارت کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف وفاقی حکومت کے شانہ بہ شانہ کھڑا رہنے کا عزم اظہارکیا۔ مشترکہ مفادات کونسل نے سینیٹ میں بھارتی غیر قانونی و غیر ذمہ دارانہ اقدامات کے خلاف قرارداد کی بھر پور پزیرائی کی، مشترکہ مفادات کونسل نے نئی نہروں کے حوالے سے مندرجہ ذیل فیصلہ کیا ہے ۔اجلاس کو سی سی آئی سیکیریٹیریٹ کی جانب سے مشترکہ مفادات کونسل کی مالی سال 2021-2022 ، مالی سال 2022-2023 اور مالی سال 2023-2024 کی رپورٹس پیش کی گئیں، مشترکہ مفادات کونسل نے سی سی آئی سیکیریٹیریٹ ریکروٹمنٹ رولز کی منظوری دے دی، اجلاس کو کابینہ ڈویژن کی جانب سے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی سال 2020-2021, سال 2021-2022 ، سال 2022-2023 اور اسٹیٹ آف انڈسٹری کی سال 2021, 2022 اور 2023 کی رپورٹس پیش کی گئیں،

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: تمام اسٹیک ہولڈرز کے مشترکہ مفادات کونسل تمام صوبوں کے وفاقی حکومت اجلاس میں کرتے ہوئے کونسل نے کے ساتھ کے لیے کے بعد

پڑھیں:

وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف