معروف ہدایتکار آشوتوش گواریکر نے انکشاف کیا ہے کہ فلم لگان میں وائس اوور دینے کے لیے امیتابھ بچن تیار نہیں تھے۔

فلم کے ہدایتکار کے بقول امیتابھ بچن نے خبردار کیا تھا کہ آج تک میں نے جس فلم میں وائس اوور دی ہے وہ فلاپ ہو جاتی ہے۔

ہدایتکار آشوتوش نے واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جب ہم پہلی بار امیتابھ صاحب کے پاس گئے تو انہوں نے ایک روایت کا ذکر کیا۔

امیتابھ بچن نے عامر خان سے کہا کہ جب بھی میں کسی فلم کو وائس اوور دیتا ہوں، وہ فلم کامیاب نہیں ہوتی، وہ فلاپ ہو جاتی ہے۔ اگر تم یہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہو تو ٹھیک ہے، لیکن بعد میں مجھ سے شکایت نہ کرنا۔

ہدایت کار آشوتوش کے بقول امیتابھ صاحب کی اس بات پر عامر خان نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ یہ آپ نے ہی کرنا ہے۔

ہدایتکار نے مزید کہا کہ امیتابھ بچن نے 'لگان' دیکھی تو انہیں فلم اور اس کے بیانیے (narration style) کی سمجھ آ گئی اور پھر انہیں فلم کا حصہ بنانا آسان ہو گیا۔

یاد رہے کہ بلاک بسٹر فلم لگان میں امیتابھ بچن کی جاندار آواز نے کہانی کو نہ صرف سہارا دیا بلکہ اسے ایک لازوال کلاسک میں تبدیل کرنے میں اہم کردار بھی ادا کیا تھا۔

فلم برطانوی دور کی کہانی پر مبنی ہے جس میں ایک گاؤں کو دیہاتیوں کو لگان معاف کرانے کے لیے انگریز ٹیم سے کرکٹ میچ کھیلنا ہوتا ہے۔

اس فلم میں عامر خان نے مرکزی کردار ادا کیا تھا جب بیک گراؤںڈ میں اس کہانی کو امیتابھ بچن بیان کر رہے ہوتے ہیں۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امیتابھ بچن نے کیا تھا

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین