شاہد آفریدی پاک فوج کی وردی پہنے واہگہ بارڈر پہنچ گئے، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی مقبوضہ کشمیر میں پہلگام واقعے کے بعد پاک فوج کی وردی پہنے واہگہ بارڈر پر پہچ گئے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔
شاہد آفریدی نے ویڈیو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بھی شیئر کی جس میں وہ واہگہ بارڈر پر پاک فوج کے جوانوں کے ساتھ بیٹھے نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے بھارت کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ عزت سے ہمارے گھر آو گے تو عزت کریں گے اور چائے بھی پلائیں گے، ہمیں بدمعاشی نہ دکھاؤ۔
مایہ ناز آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے مزید کہا کہ آپ نے پانی بند کر کے اپنا نقصان ہی کرنا ہے، آپ کے مہمانوں کو چائے کون بنا کر دے گا، انہوں نے کہا کہ ہمیں بدمعاشی نہ دکھاو، اگر دکھاو گے تو ہماری تاریخ اور کلچر طاقت ہے، جواب ملے گا۔
سابق کرکٹر نے مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر حملے کو روکنے میں ناکامی پر بھارتی فوج کو نالائق اور نکما قرار دیدیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ انڈیا میں پٹاخا بھی پھٹ جائے تو الزام پاکستان پر دھردیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’تم لوگوں کی 8 لاکھ فوج وہاں کشمیر میں بیٹھی ہے اور یہ واقعہ ہوگیا، اس کا مطلب ہوا کہ نالائق اور نکمے ہیں سب جو اپنے لوگوں کو سیکیورٹی نہیں دے سکے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پہلگام واقعہ شاہد آفریدی واہگہ بارڈر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پہلگام واقعہ شاہد ا فریدی واہگہ بارڈر شاہد ا فریدی واہگہ بارڈر
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔