بشریٰ بی بی کو جیل میں کتنی سہولیات میسر؟ رپورٹ عدالت میں جمع
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جیل میں بہتر سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی گئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے بشریٰ بی بی کی جیل میں بہتر سہولیات فراہم کرنے کی درخواست پر سماعت کی، بشریٰ بی بی کی جانب سے وکیل عثمان گل اور ظہیر عباس ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
ایڈووکیٹ جنرل آفس نے جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی، عدالت نے جیل سہولیات سے متعلق رپورٹ وکیل درخواست گزار کو فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔
جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق بشریٰ بی بی کو جیل میں الگ کشادہ کمرے میں رکھا گیا ہے اور دن میں 2 بار طبی معائنہ کیا جاتا ہے، بشریٰ بی بی کو میٹرس، کرسی، ٹیبل اور کتابوں کی الماری بھی فراہم کی گئی ہے جبکہ کمرے میں لائٹ اور پنکھے کا انتظام بھی موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق موسم گرما میں روم کولر فراہم کیا گیا ہے اور جیل میں ایل سی ڈی کی سہولت بھی موجود ہے، بشریٰ بی بی کو جیل میں علیحدہ کچن کی صورت میں کوکنگ کی سہولت بھی دی گئی ہے جبکہ کھانے کا پہلے میڈیکل آفیسر معائنہ کرتا ہے۔
عدالت نے بشریٰ بی بی کے وکیل کو ہدایت کی کہ آپ رپورٹ دیکھ لیں اور آئندہ سماعت پر اپنا موقف پیش کریں، کیس کی آئندہ سماعت روسٹر کے مطابق جاری کر دی جائے گی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بی بی کو جیل میں اسلام ا باد
پڑھیں:
بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی
فائل فوٹواڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی۔
جیل ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کانفرنس روم میں کرائی گئی، جو 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق دوران ملاقات عمران خان اور بشریٰ بی بی نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی۔
دوسری طرف اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی سے ملاقات کے دن کے موقع پر کسی وکیل اور فیملی ممبر کی ملاقات نہ ہوسکی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بھی بانی پی ٹی آئی سے اظہار یکجہتی کیلئے اڈیالہ جیل آئے تھے۔
بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمی خان اڈیالہ جیل تو پہنچیں لیکن پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہ دی۔