بشریٰ بی بی کو جیل میں کتنی سہولیات میسر؟ رپورٹ عدالت میں جمع
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
بشریٰ بی بی کو جیل میں کتنی سہولیات میسر؟ رپورٹ عدالت میں جمع WhatsAppFacebookTwitter 0 29 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جیل میں بہتر سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی گئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے بشریٰ بی بی کی جیل میں بہتر سہولیات فراہم کرنے کی درخواست پر سماعت کی، بشریٰ بی بی کی جانب سے وکیل عثمان گل اور ظہیر عباس ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
ایڈووکیٹ جنرل آفس نے جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی، عدالت نے جیل سہولیات سے متعلق رپورٹ وکیل درخواست گزار کو فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔
جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق بشریٰ بی بی کو جیل میں الگ کشادہ کمرے میں رکھا گیا ہے اور دن میں 2 بار طبی معائنہ کیا جاتا ہے، بشریٰ بی بی کو میٹرس، کرسی، ٹیبل اور کتابوں کی الماری بھی فراہم کی گئی ہے جبکہ کمرے میں لائٹ اور پنکھے کا انتظام بھی موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق موسم گرما میں روم کولر فراہم کیا گیا ہے اور جیل میں ایل سی ڈی کی سہولت بھی موجود ہے، بشریٰ بی بی کو جیل میں علیحدہ کچن کی صورت میں کوکنگ کی سہولت بھی دی گئی ہے جبکہ کھانے کا پہلے میڈیکل آفیسر معائنہ کرتا ہے۔
عدالت نے بشریٰ بی بی کے وکیل کو ہدایت کی کہ آپ رپورٹ دیکھ لیں اور آئندہ سماعت پر اپنا موقف پیش کریں، کیس کی آئندہ سماعت روسٹر کے مطابق جاری کر دی جائے گی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعالمی بینک کی پاکستان کیلیے 108 ملین ڈالر کی اضافی فنانسنگ کی منظوری عالمی بینک کی پاکستان کیلیے 108 ملین ڈالر کی اضافی فنانسنگ کی منظوری جسٹس عائشہ ملک کو یونیورسٹی آف لندن نے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نواز دیا عمران خان کی بطور وزیراعظم برطرفی، پی ٹی آئی مزاحمت نے ملک کو گہرے بحران میں مبتلا کردیا، عدالت ’اب میں ملک ہی نہیں دنیا بھی چلا رہا ہوں‘: ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ کینیڈا کے پارلیمانی انتخابات میں لبرل پارٹی کو برتری حاصل لاہور کیلئے اعزاز، نیویارک، لندن، واشنگٹن، برلن، استنبول، پیرس سے زیادہ محفوظ قرارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بی بی کو جیل میں اسلام ا باد عدالت میں
پڑھیں:
غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔
اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔
آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
غذائی قلت غزہ فلسطین