پاک بھارت کشیدگی کے حل کے بارے میں امریکی سابق سفارت کار کا کہنا تھا کہ ہم نے اس طرح کے فلمیں پہلے بھی دیکھیں ہیں، وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری اور دونوں ممالک کے عوام اپنی اپنی لیڈرشپ سے کہیں کہ بس بہت ہوچکا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ میں نجی ٹی وی کے میزبان حامد میر سے گفتگو کے دوران رابن رافیل نے وزیراعظم شہباز شریف کی پہلگام حملے کی تحقیقات غیر جانبدار ماہرین سے کرانے کی تجویز کی حمایت کردی۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلگام حملے پر پاکستان کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش مثبت پیشرفت ہے، عالمی برادری کو حالیہ پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری کردار ادا کرنا چاہیے۔

امریکا کی سابق نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا رابن رافیل نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ امریکی حکومت شہباز شریف کی تجویز کو سپورٹ کرے گی جب کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ ملکر بیٹھیں اور مسائل کا حل نکالیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ مضحکہ خیز ہے کہ واقعہ کے 5 منٹ کے بعد ہی ایک فریق کہے کہ انہیں پتا ہے کہ یہ حملہ کس نے کیا، تاہم اس حوالے سے درست حقائق جاننا بہت ضروری ہوتا ہے۔

میزبان نے سوال کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کا کیا حل ہے؟۔ جس پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اس طرح کی کشیدگی پہلی مرتبہ نہیں ہوئی، ہم نے اس طرح کے فلمیں پہلے بھی دیکھیں ہیں، وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری اور دونوں ممالک کے عوام اپنی اپنی لیڈرشپ سے کہیں کہ بس بہت ہوچکا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ مسائل کا حل نکالا جائے۔

میزبان کی جانب سے پاک-امریکا تعلقات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ امریکا میں نئی حکومت ابھی سنھبل رہی ہے، امریکا نے پاکستان اور جنوبی ایشیا میں پالیسی بنانے کے لیے ابھی لوگ تعینات نہیں کیے، صورتھال کو جانچنے میں وقت لگے گا۔ مزید کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان سے تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے پچھلی انتظامیہ کی کوششوں کو ہی استوار کرے گی اور پاکستان کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

واضح رہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے پہلگام میں 22 اپریل کو 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد 23 اپریل کو سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بھارت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو جواز بناتے ہوئے پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹے میں بھارت چھوڑنے کا حکم دیا تھا، جبکہ واہگہ بارڈرکی بندش اور اسلام باد میں بھارتی ہائی کمیشن میں تعینات اپنے ملٹری اتاشی کو وطن واپس بلانے کے علاوہ پاکستان میں تعینات سفارتی عملے کی تعداد میں بھی کمی کردی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کویتی وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا، کویتی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔

اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا، پاکستان نے مسائل کے حل کیلئے مسلسل سفارتی روابط کو ترجیحی راستہ قرار دیا۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔

اس موقع پر پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار