جدید لڑاکا طیارے سوات اور سکردو ایئرپورٹ پر پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
اسلام آباد( نیوز ڈیسک)پاک فضائیہ نے جدید PL-15 اہنی شکن میزائلوں سے لیس جدید لڑاکا طیارے سوات اور سکردو ایئرپورٹس پر پہنچا دئیے یہ اقدام کسی بھی بھارتی جارحیت کےجواب دینے اور ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے پاک فضائیہ کے اٹل عزم کا واضح اظہار ہے
پاکستان فضائیہ فضائی جنگ کے میدان میں ایک ناقابل تسخیر قوت کے طور پر ابھری ہے، جو جدید ترین ٹیکنالوجی اور کثیر الجہتی صلاحیتوں سے لیس ہے۔جو ہمیشہ پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل تیاری کے اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھنے میں پیش پیش رہی ہے۔
جے-10 سی اور جے ایف-17 بلاک تھری جیسے جدید لڑاکا طیاروں کی شمولیت، جو PL-15 بی اونڈ ویژول رینج میزائلوں سے مسلح ہیں، نے پاک فضائیہ کی جنگی صلاحیت اور اسٹریٹجک دفاع میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ان جدید اثاثوں کی بدولت پاکستان کی فضائی حدود ناقابل تسخیر ہے، جو دشمن کو ایک دوٹوک پیغام دے رہی ہیں کہ پاکستان کا فضائی دفاع ناقابل تسخیر ہے۔
سیدو سے پسنی تک، پاک فضائیہ اپنی ناقابل تسخیر موجودگی کو برقرار رکھتے ہوئے ہر وقت کی نگرانی اور فوری ردعمل کی صلاحیتوں کو یقینی بنا رہی ہے۔ متحرک قیادت کے تحت، پاک فضائیہ نے ایک انقلابی جدید کاری مہم کا آغاز کیا ہے جس میں اگلی نسل کی ٹیکنالوجیز کو کثیر جہتی شعبوں میں برق رفتاری سے شامل کیا جا رہا ہے۔
پاک فضائیہ نے جدید فضائی پلیٹ فارمز، ہائی ٹو میڈیم آلٹیٹیوڈ ایئر ڈیفنس سسٹمز (HIMADS)، بغیر پائلٹ لڑاکا فضائی گاڑیاں (UCAVs)، خلا، سائبر اور الیکٹرانک وارفیئر کی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت پر مبنی نظاموں کو بھی آپریشنل کر کے ناقابل مثال رفتار سے اپنی طاقت میں اضافہ کیا ہے۔
پاکستان فضائیہ ایک بار پھر قوم کی خودمختاری کے تحفظ، جارحیت کی روک تھام اور طاقت کے ذریعے امن برقرار رکھنے کے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتی ہے۔ بہادری، جدت اور پختہ عزم کے ساتھ، پاک فضائیہ ہر چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار کھڑی ہے تاکہ پاکستان کی فضائی حدود محفوظ رہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پاک فضائیہ
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔