پشاور:

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبہ بچاؤ تحریک کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے اور پہلگام واقعے پر کہا کہ بھارت نے حملہ کرنے کی حماقت کی تو بھرپور جواب ملے گا، ہمارے پاس ایٹم بم ہیں وہ چاند دیکھنے کے لیے نہیں رکھے ہیں۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں منعقدہ پہلے 22ویں فارما ایشیا انٹرنیشنل نمائش میں بحثیت مہمان خصوصی شرکت کی اور میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت بغیر تحقیق کے پاکستان پر الزام ترشی کر رہا ہے جس سے ساری دنیا میں رسوا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا جھوٹ فرداً فرداً بے نقاب ہو رہا ہے، سب کو پتا چل رہا ہے کہ بھارت بے بنیاد پروپیگنڈا کر رہا ہے، ہماری فوج اور دفاعی اداروں میں بھارت کو جواب دینے کی بھرپور صلاحیت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت نے جارحیت کی تو ہم ہر چیز استعمال کرنے کا حق رکھتے ہیں، ہم اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں۔

بھارت کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا میں جو واقعہ ہوا تھا وہ پاکستان نے کیا تھا؟ جو کینیڈا کا وزیراعظم بھارت کو برا بھلا کہہ رہا تھا، امریکا اور چین والوں کے ساتھ جو کچھ ہوا کیا وہ بھی پاکستان نے کیا تھا، کیا مودی کو گجرات کے قصائی کا نام پاکستان نے دیا، مودی نے گجرات کے مسلمانوں پر بہت مظالم کیے ہیں۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبہ بچاؤ تحریک کا جلد آغاز کیا جائے گا اور دمادم قلندر ہوگا، صوبے کو آگے لے کر جانا ہے اور امن قائم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کی ترقی میں بزنس کمیونٹی کا اہم کردار ہے، ہمیں اپنی بزنس کمیونٹی کو سپورٹ کرنا چاہیے، بجلی اور گیس مہیا کرنا چاہیے، تاجروں کو ٹیکسز کے حوالے سے مشکلات ہیں، ان کا مسلہ حل کرنا چاہیے۔

گونر خیبرپختونخوا نے کہا کہ بزنس کمیونٹی صوبہ اور ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور تاجر برادری کو ہر قسم کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ کہ بھارت رہا ہے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان
  • بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان