پاک فوج کی جنگی تیاریاں عروج پر، سیالکوٹ، نارووال، ظفر وال میں مشقیں جاری
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
ذرائع کے مطابق پاک فوج کی جنگی مشقوں میں چھوٹے بڑے جدید ہتھیاروں سمیت ٹینکوں، توپ خانہ اور انفنٹری نے حصہ لیا۔ یہ جنگی مشقیں سیالکوٹ، نارووال، ظفروال اور شکر گڑھ سمیت دیگر علاقوں میں کی جا رہی ہیں، پاک فوج کے جوان دفاع وطن کے لئے پُرعزم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پہلگام فالس فلیگ صورتحال کے پیش نظر پاک فوج کی جنگی تیاریاں عروج پر، پاک فوج کی مختلف علاقوں میں جنگی مشقیں جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاک فوج کی جنگی مشقوں میں چھوٹے بڑے جدید ہتھیاروں سمیت ٹینکوں، توپ خانہ اور انفنٹری نے حصہ لیا۔
یہ جنگی مشقیں سیالکوٹ، نارووال، ظفروال اور شکر گڑھ سمیت دیگر علاقوں میں کی جا رہی ہیں، پاک فوج کے جوان دفاع وطن کے لئے پُرعزم ہیں۔ ذرائع کے مطابق ملک کی سلامتی اور دفاع کے لئے پاک فوج کے جوان قربانی دینے کو تیار ہیں، پاک فوج ہمہ وقت چوکس اور فرض شناسی کے جذبے سے ہر وقت سرشار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاک فوج کی جنگی
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔