WE News:
2026-07-24@07:10:42 GMT

جنگی صورتحال میں عوام اپنا اور دوسروں کا تحفظ کیسے کریں؟

اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT

جنگی صورتحال میں عوام اپنا اور دوسروں کا تحفظ کیسے کریں؟

مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں 22 اپریل کو نامعلوم افراد کے حملہ کے نتیجے میں 27 افراد کی ہلاکت کے بعد بھارتی میڈیا کی جانب سے حملے کے فوراً ہی پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا مہم شروع کی گئی اور ہندوستانی میڈیا اور بالخصوص ’را‘ سے جڑے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کی لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کا منہ توڑ جواب، دشمن کی چیک پوسٹس تباہ

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاک بھارت کشیدگی بڑھنے لگی اور گزشتہ شب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللّٰہ تارڑ نے مستند انٹیلیجنس اطلاعات بتادیں کہ بھارت آئندہ 24 سے 36 گھنٹوں میں پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے، دشمن کی کسی بھی مہم جوئی کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

وی نیوز نے سول ڈیفینس افسران سے گفتگو کرکے یہ جاننے کی کوشش کی جنگ کی صورت میں عوام کو اپنا تحفظ کیسے کرنا چاہیے اور کن اقدامات کے ذریعے خود کو اور دوسروں کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟

سول ڈیفینس افسر شاہد رحمان نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سول ڈیفینس کا ادارہ یونین کونسل کی سطح تک کسی بھی جنگی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہما وقت تیار ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یونین کونسل میں 30 سے 60 رضاکار ہوتے ہیں جنہیں پوسٹ وارڈن اور وارڈن کا درجہ دیا جاتا ہے اور ان رضاکاروں کو جنگی صورتحال سے قبل، اس کے دوران اور اس کے بعد کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔

شاہد رحمان نے کہا کہ یہ رضاکار کسی بھی جنگی صورتحال پر تمام یونین کونسل کے شہریوں کو جان و مال کے تحفظ اور جنگی صورتحال میں محفوظ رہنے کے طریقہ کار سکھاتے ہیں جبکہ یہ رضاکار اس موقع پر دیگر افراد کو بھی ٹریننگ دیتے ہیں کہ کیسے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے لوگوں کو بچایا جا سکتا ہے۔

سول ڈیفینس افسر نے کہا کہ سول ڈیفینس ہر گھر کی ضرورت ہے اور ہر گھر میں تربیت یافتہ رضاکار کا ہونا لازمی ہے، اس کے لیے سول ڈیفینس نے لوگوں کو ٹریننگ دی ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سول ڈیفینس کی ٹریننگ بآسانی عام لوگوں کو بھی دی جا سکتی ہے جس کے دوران رضاکاروں کو بتایا جاتا ہے کہ ان کو ان کے حلقے کی تمام گلی محلوں اور بازاروں کا معلوم ہو تاکہ اگر کبھی رات کے وقت حملہ ہوجائے تو ان کو کسی قسم کی مشکل پیش نہ آئے جبکہ رضاکار اس حلقے کے عوام کو جانتے ہو اور عوام کو بھی پتا ہو کہ یہ ان کے حلقے کا سول ڈیفینس کا رضاکار ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان میں رائے عامہ نے پہلگام حملے کو فالس فلیگ آپریشن قرار دیدیا

شاہد رحمان نے کہا کہ رضاکار کے لیے ضروری ہے کہ اسے معلوم ہو کہ فرسٹ ایڈ باکس کہاں رکھا ہے، پانی کے ذخائر کہاں موجود ہیں، آگ بجھانے کے لیے فائر فائٹرز کہاں سے آتے ہیں، فائر اسٹیشن کتنا دور ہے اور ڈاکٹرز اور نرسز اس علاقے میں کہاں کہاں رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہدایات رضاکاروں کو حملہ ہونے سے قبل دی جانے والی تربیت کے وقت بتائی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگی صورتحال میں حملے کے دوران الگ سے تربیت دی جاتی ہے، خطرے کی اطلاع سنتے ہی وارڈن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی پوسٹ یا مقررہ جگہ یا کسی ایسی جگہ پر پہنچے جہاں پر لوگ موجود ہوں، ان لوگوں کو حملے کی اطلاع کرے اور ان لوگوں سے کہے کہ وہ اپنا اور اپنے اہل و عیال اور مال مویشی اگر ہیں تو ان کو لے کر اپنے گھروں کو چلے جائیں، اگر جنگ کے دوران بمباری ہو رہی ہے تو رضاکار جگہ جگہ جا کر دیکھیں کہ لوگ کیا کر رہے ہیں اور لوگوں کو زیادہ خوف و حراس میں مبتلا نہ ہونے دیں۔

شاہد رحمان نے کہا کہ رضاکاروں کو حملے کی بعد کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھی الگ سے تربیت دی جاتی ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ جن عمارتوں کو حملے کے دوران زیادہ نقصان پہنچا ہے ان عمارتوں کو فوری خالی کرانا ہے، جبکہ جو بے گھر افراد جن کے گھروں کو نقصان پہنچا ہو ان کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنا ہے اور ان کے کھانے پینے کا بھی بندوبست کرنا ہے جبکہ نقصان شدہ عمارتوں کی مرمت اور بحالی کے لیے متعلقہ اداروں سے فوری رجوع کرنا ہے جبکہ جتنے بھی جانی و مالی نقصان ہوا ہو اس سے متعلقہ فہرست تیار کر کے پولیس اسٹیشن کو پہنچانی ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت24 سے 36 گھنٹوں میں پاکستان کیخلاف فوجی کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے، فیصلہ کن جواب دیا جائےگا، وزیر اطلاعات

سول ڈیفینس افسر نے بتایا کہ رضاکاروں کو بتایا جاتا ہے کہ جب بھی کبھی کسی حادثے کے بعد یا جنگی صورتحال کے لوگوں کی بڑی تعداد زخمی ہوئے تو ان سب کو کسی ایک خاص مقام پر لایا جائے اور وہاں سے آگے مختلف ایمبولینس یا گاڑیوں میں ان کو قریبی اسپتال پہنچایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی ایک گھر میں ایک شخص زخمی ہے، کسی دوسرے گھر میں 3 زخمی ہیں اور کسی دوسری گلی میں اس سے زیادہ زخمی ہوں تو ان سب کو قریب سے قریب تر جمع کیا جائے تاکہ اسپتال منتقل کرنے میں آسانی ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جنگی صورتحال جنگی صورتحال اور اپنا دفاع سول ڈیفینس عوام دفاع کیسے کریں.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جنگی صورتحال عوام دفاع کیسے کریں شاہد رحمان نے جنگی صورتحال رضاکاروں کو صورتحال سے کہ رضاکار نے کہا کہ انہوں نے کے دوران لوگوں کو کسی بھی جاتا ہے ہے اور کے لیے

پڑھیں:

صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال

کراچی:

صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔

صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔

ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال