Express News:
2026-06-03@05:18:48 GMT

بلیاں پانی سے اتنی ’نفرت‘ کیوں کرتی ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT

بلیوں کے پانی سے "نفرت" کرنے کی کئی وجوہات ہیں، جو زیادہ تر ان کی فطری جبلت اور جسمانی خصوصیات سے جڑی ہیں۔

دراصل گھریلو بلیوں کے آباؤ اجداد خشک صحرائی علاقوں (مثلاً مشرقِ وسطیٰ) سے تعلق رکھتے ہیں جہاں پانی کم تھا۔ ان کے لیے تیرنا یا گیلا ہونا ضروری نہیں تھا، اسی لیے وہ فطری طور پر پانی سے دور رہنے کی عادی ہو گئیں۔

مزید برآں بلیوں کے بال نرم اور گھنے ہوتے ہیں جو گیلا ہونے پر بھاری ہو جاتے ہیں اور جلد خشک نہیں ہوتی۔ یہ امر بھی بلیوں کو ناپسند ہوتا ہے۔

بلیاں عموماً اپنے ماحول پر قابو رکھنا پسند کرتی ہیں۔ پانی میں پھسلنے یا تیرنے کا احساس ان کے لیے غیر متوقع اور خوفناک لگتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں بلیاں گندگی پسند کرتی ہیں۔ بلیاں بہت صاف ستھری مخلوق ہیں اور روزانہ اپنا جسم چاٹ کر صاف کرتی ہیں۔

پانی ان کی قدرتی خوشبو کو بدل سکتا ہے اور صفائی کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر بلی کے ماضی میں پانی کے ساتھ برا تجربہ رہا ہو (مثلاً نہلانے میں زبردستی یا ٹھنڈا پانی) تو وہ اور بھی محتاط یا خوفزدہ ہو سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کرتی ہیں

پڑھیں:

ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات

واشنگٹن:

امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔

سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔

سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔

بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔

ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔

روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا