مودی کا جنگی جنون، ہتھیاروں کی دوڑ، خطے کو ایٹمی تصادم کی جانب دھکیلنے کی سازش
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
مودی کا بڑھتا ہوا جنگی جنون بھارت کو ایک انتہا پسند فوجی ریاست میں بدل رہا ہے، جنوبی ایشیا میں عسکری دباؤ بڑھانے کے لیے مودی سرکار ہائپر سانک میزائلوں جیسے مہلک ہتھیاروں پر اندھا دھند سرمایہ لگا رہی ہے۔
تعلیم، صحت اور روزگار جیسے بنیادی مسائل سے منہ موڑ کر مودی سرکار اپنی ناکامیوں کو اسلحے کے ڈھیر میں چھپانے کی کوشش میں مصروف ہے۔
بھارتی دفاعی تحقیقاتی ادارے (IDRW) نے براہموس 2 منصوبے کی تفصیلات جاری کر دیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارت اور روس براہموس 2 ہائپر سونک میزائل کی مشترکہ تیاری کے لیے سرگرم ہے۔ روسی صدر پیوٹن کے دورہ بھارت کے دوران براہموس 2 کی منظوری اور ٹیکنالوجی شیئرنگ پر فیصلہ متوقع ہے۔
براہموس 2 روس کے ’’زرکون‘‘ میزائل پر مبنی ہوگا جس کی رفتار میک 8 اور رینج 1500 کلو میٹر تک ہوگی۔ براہموس 2 ہائپر سونک میزائل زمین اور سمندر دونوں پر اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا حامل ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت میں براہموس 2 کی تیاری ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے تحت ہو رہی ہے، براہموس 2 کی ٹیکنالوجی بھارتی تیار کردہ اسکیم جیٹ انجن اور روسی ڈیزائن کا امتزاج ہوگی جو بھارت کے ’’میک ان انڈیا‘‘ منصوبے کا حصہ ہے۔ براہموس 2 صرف بھارت اور روس کے لیے مخصوص رہے گا اور اس کی برآمد کی اجازت نہیں ہوگی۔
بھارت کی پالیسیوں کا مرکز اب عوامی بہبود نہیں بلکہ اسلحے کی دوڑ اور خطے میں فوجی غلبے کا خطرناک جنون ہے، امن کو روند کر مودی سرکار جنوبی ایشیا کو ایٹمی تصادم کی دہلیز پر لے جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: براہموس 2
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔