پاکستان میں جرمنی کی سابقہ اولمپک چیمپئن کھلاڑی کے ریسکیو کی کوششیں جاری
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 30 جولائی 2025ء) جرمنی کی دو بار اولمپک چیمپئن رہنے والی سابقہ بیاتھلون کھلاڑی لاؤرا ڈالمائر شمالی پاکستان میں 6,094 میٹر بلند چوٹی سر کرنے کی کوشش کے دوران چٹانیں گرنے سے شدید زخمی ہو گئی ہیں۔ گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق اور پاکستانی کوہ پیمائی فیڈریشن نے منگل کو اس واقعے کی تصدیق کی۔
حادثہ پیر کے روز ضلع گانچھے کی ہوشے وادی میں پیش آیا، جب لائلہ پیک پر تقریباً 5,700 میٹر کی بلندی پر اچانک چٹانیں گرنے سے 31 سالہ ڈالمائر شدید زخمی ہو گئیں۔ ترجمان کے مطابق خراب موسم کے باعث ریسکیو ہیلی کاپٹر جائے وقوعہ تک نہیں پہنچ سکا۔ امدادی کارروائی پاکستان آرمی کے تعاون سے جاری ہے۔
اس مہم جوئی میں ان کی ساتھی کوہ پیما مارینا ایفا، جنہیں بعض مقامی رپورٹس میں مارینا کراؤس بھی کہا گیا ہے، محفوظ رہیں اور 29 جولائی کو مقامی امدادی کارکنوں کی مدد سے بیس کیمپ پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں۔
(جاری ہے)
پاکستان الپائن کلب کے نائب صدر قرار حیدری نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ''آج (بدھ) زمینی ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ مقامی کوہ پیماؤں، بلند پہاڑی علاقوں میں جانے والے پورٹرز اور کئی بین الاقوامی کوہ پیماؤں، جن میں تین امریکی اور ایک جرمن بھی شامل ہیں، پر مشتمل ٹیم لاؤرا تک پہنچنے کے لیے روانہ ہو چکی ہے۔ خراب موسم، کم حد نظر، بارش اور تیز ہوا کے باعث پاکستانی فوج کے ہیلی کاپٹر پرواز نہیں کر پا رہے، جس سے فضائی ریسکیو کی کوششیں مشکلات کا شکار ہیں۔
29 جولائی کو کی گئی ایک فضائی نگرانی میں لورا کی لوکیشن کی تصدیق ہوئی، مگر زندگی کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔ منصوبہ یہ ہے کہ جیسے ہی حالات سازگار ہوں، انہیں اسکردو منتقل کیا جائے۔‘‘ڈالمائر نے 2019 میں صرف 25 برس کی عمر میں بیاتھلون سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔ وہ 2018 کے اولمپکس میں ایک ہی ایونٹ میں اسپرنٹ اور پرسیوٹ دونوں میں طلائی تمغے جیتنے والی پہلی خاتون بیاتھلون کھلاڑی بنی تھیں۔
قرار حیدری کا مزید کہا، ''دو امریکی کوہ پیما جو اسی (لائلہ) چوٹی کو سر کرنے کی مہم پر تھے، ریسکیو مشن میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے خبردار کی، ''لاؤرا بلندی پر پھنس چکی ہیں اور ان کی بقا کا انحصار موسم پر ہے، ان کے بچنے کے امکانات ففٹی ففٹی ہیں۔ دشوار گزار راستوں اور خراب موسم کی وجہ سے ریسکیو ٹیمیں تاحال ان تک نہیں پہنچ سکی ہیں۔
زمینی ٹیمیں کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے نکالنے کا عمل رکا ہوا ہے۔‘‘ڈالمائر کی ساتھی کوہ پیما سے متعلق قرار حیدری کا کہنا تھا، مارینا محفوظ ہیں اور فوری خطرے سے باہر ہیں۔ وہ اس وقت بیس کیمپ میں محفوظ اور صحت مند ہیں اور کسی قسم کا اشارہ نہیں ہے کہ وہ اب بھی پہاڑ پر یا حادثے کی جگہ پر موجود ہیں۔
‘‘اس سے قبل جرمن نشریاتی ادارے زی ڈی ایف نے کہا تھا کہ منگل کو ایک ہیلی کاپٹر کے فضائی جائزے میں جائے حادثہ پر کسی زندگی کے آثار نظر نہیں آئے۔ ان دنوں شمالی پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں مون سون بارشوں کے باعث شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ ہو رہی ہے، جس میں کئی مقامی سیاح جان سے جا چکے ہیں۔
پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق رواں مون سون سیزن کے آغاز سے اب تک ملک بھر میں بارشوں اور متعلقہ حادثات کے باعث 288 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ہارون جنجوعہ، روئٹرز، ڈی پی اے
ادارت: عاطف توقیر
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے باعث ہیں اور
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز