عمران خان کی مدد کے لیے ہم اسوقت صرف امریکا کی طرف دیکھ رہے ہیں، قاسم خان کا انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
عمران خان کی مدد کے لیے ہم اسوقت صرف امریکا کی طرف دیکھ رہے ہیں، قاسم خان کا انٹرویو WhatsAppFacebookTwitter 0 30 July, 2025 سب نیوز
لندن :بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کے والد کی رہائی کے لیے صرف امریکا کی طرف دیکھ رہے ہیں، یہی امید باقی رہ گئی ہے۔ پاکستان میں تمام قانونی راستے اختیار کیے جا چکے ہیں لیکن انصاف کا حصول ممکن نظر نہیں آ رہا۔
امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں قاسم نے بتایا کہ عدالتی اجازت کے باوجود قیدی والد سے ہفتوں میں ایک مختصر کال ہی ممکن ہو پاتی ہے، جو ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک ہے۔ یہ نظام ہمیں مایوسی کے سوا کچھ نہیں دے رہا، اب ہماری نظریں امریکا پر ہیں۔
قاسم خان نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی امید باندھتے ہوئے کہا کہ وہ واحد عالمی رہنما ہیں جو یہ معاملہ دنیا کے سامنے لا سکتے ہیں۔ ان کے بھائی سلیمان خان نے بھی بین الاقوامی میڈیا کی خاموشی پر تشویش ظاہر کی۔
دونوں بھائی حالیہ دنوں میں ٹرمپ کے سابق مشیر ریچرڈ گرینیل سے ملاقات کر چکے ہیں، جنہوں نے ان کی حمایت کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس جنگ میں تنہا نہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبر’سچ بتائیں، کہانی بہت مزے کی ہے،‘جمشید دستی نااہلی کیس: این اے 175 میں ضمنی الیکشن شیڈول معطل ’سچ بتائیں، کہانی بہت مزے کی ہے،‘جمشید دستی نااہلی کیس: این اے 175 میں ضمنی الیکشن شیڈول معطل سپریم کورٹ کا طلاق یافتہ بیٹی کو پنشن دینے کے حوالے سے بڑا فیصلہ اسٹیٹ بینک شرحِ سود سنگل ڈیجیٹ پر لانے کا اعلان کرے:زاھد اقبال چودھری جاپان میں طاقتور سونامی کی وارننگ، دہائیوں پہلے پیشگوئی کس نے کی تھی؟ ترکمانستان توانائی کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ بڑی شراکت داری کر سکتا ہے:محمد علی درانی بھارت کا پرلے میزائل کا تجربہ، پاکستان کا کون سا جدید ہتھیار منہ توڑ جواب دے گا؟Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔