ترکیے کے معروف تاریخی ڈرامے کورولس عثمان کے مرکزی کردار باراک اوچیوت نے اپنی راہیں جدا کرلیں۔

باراک اوچیوت نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنے مختصر پیغام میں لکھا کہ ’الوداع ہونا ایک بڑا وصف ہے۔ 6 سالہ جذبے اور محنت پر الزام تراشی کی کوششوں کے باوجود میں اپنے ناظرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے رخصت لینا چاہتا ہوں۔‘

انہوں نے یہ بھی لکھا کہ وہ جلد نئے پراجیکٹ میں نئے عزم کے ساتھ دوبارہ نمودار ہوں گے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ باراک اوچیوت مسلسل 6 سیزن میں ترکیے کے تاریخی ڈرامے کورولس عثمان کے مرکزی کردار رہے ہیں، جنہیں مداح بے حد پسند کرتے ہیں۔

View this post on Instagram

A post shared by Burak Özçivit (@burakozcivit)

 

کورولُس عثمان، تاریخ اور حقیقت

ترکی کا معروف تاریخی ڈرامہ ’کورولُس عثمان‘ (ترجمہ: عثمان کی بنیاد) نہ صرف ترک ناظرین بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں بے حد مقبول ہوا ہے۔ یہ ڈرامہ سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان اول کی زندگی، جدوجہد اور فتوحات پر مبنی ہے، جسے حقیقت اور ڈرامائی رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔

یہ ڈرامہ ’دیرلیش ارطغرل‘ کا تسلسل ہے، جس میں ارطغرل غازی (عثمان کے والد) کی زندگی کو موضوع بنایا گیا تھا۔ ’کورولُس عثمان‘ دراصل اسی داستان کا اگلا باب ہے، جس میں عثمان بیگ کی قیادت، بصیرت اور عسکری حکمتِ عملیوں کو پیش کیا گیا ہے۔

ڈرامے کی نمایاں خصوصیات

’کورولُس عثمان‘ کو محمد بوزداغ نے تحریر کیا ہے اور اس کی ہدایت کاری بھی انہوں نے کی ہے۔ ڈرامے میں بُراک اوزچیوت نے مرکزی کردار — عثمان غازی — ادا کیا، جو ان کی زندگی کا یادگار اور مقبول ترین کردار بن گیا۔

ڈرامے کو پہلی بار نومبر 2019 میں نشر کیا گیا اور اب تک اس کے کئی سیزن آ چکے ہیں۔ اس میں نہ صرف سلطنتِ عثمانیہ کے آغاز کو دکھایا گیا ہے بلکہ قبائلی اتحاد، منگولوں سے جنگ، بازنطینی سازشوں، اور اسلامی روایات و اقدار کی ترجمانی بھی کی گئی ہے۔

تاریخی پس منظر

عثمان اول (1258–1326) سلجوق سلطنت کے زوال کے بعد اناطولیہ میں ابھرتی ایک نئی قوت کے سربراہ تھے۔ انہوں نے اپنے چھوٹے سے قبیلے قیی کو ایک سلطنت کی بنیاد دی، جو بعد ازاں سلطنتِ عثمانیہ کہلائی، وہی سلطنت جس نے چھ صدیوں تک تین براعظموں پر حکمرانی کی۔

عثمان غازی نے نہ صرف عسکری فتوحات حاصل کیں بلکہ اسلامی خلافت کے احیاء کی بنیاد بھی رکھی۔ ان کی اولاد میں آنے والے سلاطین جیسے ارطغرل، اورہان، محمد فاتح اور سلیمان اعظم نے اس سلطنت کو دنیا کی سب سے مضبوط سیاسی و عسکری طاقت بنا دیا۔

مقبولیت اور اثرات

’کورولُس عثمان‘ نے ترکی سمیت پاکستان، مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور یورپ کے کئی حصوں میں مقبولیت حاصل کی۔ اردو میں ڈب شدہ اقساط نے پاکستانی ناظرین کو بھی جذباتی طور پر اس کہانی سے جوڑ دیا۔

اس ڈرامے نے جہاں اسلامی تاریخ کو دوبارہ زندہ کیا، وہیں ترک ثقافت، روایات، اور جذبۂ جہاد کو بھی عالمی سطح پر متعارف کروایا۔ کئی مسلمان نوجوانوں نے اس سے متاثر ہو کر اسلامی تاریخ پڑھنا اور اپنی شناخت پر فخر کرنا شروع کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اداکار الوداع براک اوچیوت ترکیے کورولس عثمان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اداکار الوداع ترکیے کورولس عثمان کورول س عثمان کورولس عثمان عثمان کے ڈرامے کو

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں کا امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں کا دورہ
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے