قطر نے بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی) کے ساتھ سال 2036 کے اولمپک اور پیرا اولمپک گیمز کی میزبانی کے انتخابی عمل پر بات چیت میں شمولیت کی تصدیق کر دی۔

یہ بھی پڑھیں: 128 سال  بعد اولمپکس میں کرکٹ کی شاندار واپسی، مزید نئے کھیل کون سے شامل ہوں گے؟

قطر اولمپک کمیٹی (QOC) نے منگل کے روز اعلان کیا کہ ملک اپنی تیاریوں اور منصوبہ بندی کے ساتھ اس دوڑ میں شامل ہو چکا ہے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انڈونیشیا، ترکی، بھارت اور چلی پہلے ہی 2036 گیمز کے لیے اپنی دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں۔ اب قطر بھی عالمی کھیلوں کی سب سے بڑی اس تقریب کی میزبانی کا خواہاں ہے۔

صدر قطر اولمپک کمیٹی شیخ جوعان بن حمد آل ثانی نے سرکاری نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم فی الحال 95 فیصد درکار اسپورٹس انفراسٹرکچر پہلے ہی مکمل کر چکے ہیں اور ہمارے پاس ایک جامع قومی منصوبہ ہے تاکہ تمام سہولیات 100 فیصد مکمل تیار ہوں۔

مزید پڑھیے: پیرس اولمپکس کا اختتام، مشعل بجھا دی گئی، ایونٹ میں کس ملک کا پلڑا بھاری رہا؟

انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ صرف کھیلوں کی میزبانی تک محدود نہیں، بلکہ یہ منصوبہ ایک طویل مدتی وژن پر مبنی ہے جو سماجی، اقتصادی اور ماحولیاتی طور پر پائیدار ورثہ چھوڑنے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ قطر نے حالیہ برسوں میں بڑے بین الاقوامی کھیلوں کی کامیاب میزبانی کی ہے۔ جن میں سنہ 2022 میں فیفا ورلڈ کپ اور سنہ2024  میں ایشین کپ شامل ہین اور اب دوحہ سنہ 2030 میں ایشین گیمز کی میزبانی بھی کرے گا جسے وہ پہلے سنہ 2006 میں بھی منعقد کر چکا ہے۔

اگر قطر کو سال 2036 اولمپکس کی میزبانی ملتی ہے تو یہ مشرق وسطیٰ کا پہلا ملک ہو گا جو اس عظیم عالمی ایونٹ کی میزبانی کرے گا۔ یہ ایک ایسی پیشرفت ہوگی جو خطے کے کھیلوں میں بڑھتے ہوئے کردار کو مزید اجاگر کرے گی۔

مزید پڑھیں: پیرس اولمپکس:  بالآخر گولڈ میڈل ارشد ندیم کے گلے میں جھول گیا

مزید برآں سعودی عرب سنہ 2034 میں فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کرے گا۔ قطر اور سعودی عرب جیسے ممالک عالمی کھیلوں کے لیے نئی قوت بن کر ابھر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی اولمپکس 2036 قطر المپکس 2036 کا میزبانی قطر اولمپک کمیٹی قطر اولمپکس 2036 کا میزبانی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی اولمپکس 2036 قطر المپکس 2036 کا میزبانی قطر اولمپک کمیٹی قطر اولمپکس 2036 کا میزبانی اولمپک کمیٹی کی میزبانی قطر اولمپک کے لیے

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف