پاکستانی فتح کی گونج بھارتی پارلیمنٹ تک جا پہنچی بھارتی وزیرداخلہ کی عجیب منطق
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
ہمارے پاس ثبوت ہے دہشت گردوں کے پاس پاکستانی چاکلیٹ ملی ہے، امیت شاہ
چدم برم پاکستان کو کلین چٹ کیوں دی؟ لوک سبھا میں خطاب کے دوران برہمی کا اظہار
بھارت کے وزیرداخلہ امیت شاہ نے لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے سابق وزیرداخلہ چدم برم کے بیان پر برہمی کا اظہار کیا۔مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام پر فائرنگ کے واقعے میں 26 شہری ہلاک ہوئے تھے جس کا الزام بھارت نے بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر عائد کر دیا تھا۔ایک انٹرویو میں بھارت کے سابق وزیر داخلہ پی کے چدمبرم نے کہا کہ آخر بھارتی حکومت یہ کیوں سمجھتی ہے کہ پہلگام واقعے میں ملوث دہشت گرد پاکستان سے آئے، کیا مودی سرکار نے ان دہشت گردوں کے پاکستانی ہونے کی تصدیق کی، کیا ان کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ پہلگام واقعام میں ملوث دہشت گرد پاکستان سے آئے تھے۔انہوں نے کہا حملہ کرنے والے بھارتی بھی ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہوں نے بھارت میں ہی دہشت گردی کی تربیت حاصل کی ہو۔سابق وزیرداخلہ کے بیان پر امیت شاہ نے لوک سبھا میں خطاب کے دوران برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ چدم برم پاکستان کو کلین چٹ کیوں دی؟ پاکستان کو بچا کر آپ کو کیا ملیگا؟بھارتی وزیر داخلہ نے کہاکہ ہمارے پاس ثبوت ہے دہشتگردوں کے پاس پاکستان کی بنائی ہوئی چاکلیٹ ملی ہے۔امیت شاہ نے دعویٰ کیا کہ پہلگام حملے میں ملوث 3 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: امیت شاہ
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔