پاکستان نے بھارتی پارلیمان میں ہونے والی حالیہ بحث کے دوران ”آپریشن سندور“ کے حوالے سے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیانات نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی خطرناک کوشش ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ بھارتی رہنماؤں کی جانب سے لگائے گئے الزامات بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے اور خطے میں جارحیت کو جواز فراہم کرنے کی کوشش ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ دنیا اچھی طرح جانتی ہے کہ بھارت پاکستان پر بارہا جھوٹے الزامات عائد کرتا رہا ہے، اور حالیہ بیانات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔

دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نے 7 مئی کو ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معصوم افراد کو شہید کیا اور اب اس ظلم پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان کے خلاف بیانیہ گھڑا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ “ایٹمی بلیک میلنگ” کا بھارتی بیانیہ گمراہ کن اور خود غرضی پر مبنی تصور ہے۔ بھارت کا مقصد اشتعال انگیزی پر پردہ ڈالنا اور پاکستان پر الزام عائد کرنا ہے۔ دنیا کو پتہ ہے کہ پاکستان نے بھارت کا روایتی صلاحیتوں کے ذریعہ مقابلہ کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی پارلیمان میں نام نہاد آپریشن سندور پر ہونے والی بحث پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی رہنما عوام کو گمراہ کرنے کے بجائے اپنے فوجی نقصانات تسلیم کریں۔ بھارتی قیادت کو جنگ بندی میں فریق ثالث کے فعال کردار کو بھی مان لینا چاہیے۔

انہوں نے آپریشن سندور، بھارت کے بے بنیاد الزامات اور اشتعال انگیز دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ بھارتی رہنماؤں کے یہ بیانات حقائق کو مسخ کرنے اور جارحیت کو جواز دینے کے خطرناک رجحان کے عکاس ہیں اور اندرونی سیاسی فائدے کے لیے کشیدگی کو بڑھاوا دینا خطرناک ہے۔

ترجمان شفقت علی خان نے کہا کہ دنیا بھی یہ جانتی ہے کہ بھارت نے بغیر تحقیقات کے حملہ کیا۔ 6 اور 7 مئی کو بھارتی حملے میں درحقیقت معصوم افراد شہید ہوئے۔

بھارت نےجس مبینہ دہشت گردی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا درحقیقت وہاں خواتین اور بچے تھے۔ اس حملے میں بھارت اپنے کسی بھی اسٹریٹیجک ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ بھارتی طیاروں اور اہداف کو غیر مؤثر بنانے میں پاکستان کی کامیابی ناقابل تردید حقیقت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعہ پر شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی فوری پیشکش کو قبول نہیں کیا بلکہ جارحیت اور تصادم کا راستہ اختیار کیا۔ وہ خود ہی مدعی بھی بنا، منصف بھی اور جلاد بھی۔

دفتر خارجہ نے آپریشن مہادیو کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نام نہاد آپریشن مہا دیو سے متعلق کوئی بھی دعویٰ اہمیت نہیں رکھتا۔ بھارتی وزیر داخلہ کا بیان جھوٹ اور تضادات سے بھرا ہوا ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ مبینہ ملزم لوک سبھا میں بحث کے آغاز پر ہی مارے گئے۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: دفتر خارجہ نے کہا کہ کہ بھارت بھارت نے

پڑھیں:

کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔

عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔

دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔

تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان