آسٹریلیا نے بچوں کے یوٹیوب استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
آسٹریلوی حکومت نے یوٹیوب کو بھی زیرِ بحث بچوں پر سوشل میڈیا پابندی میں شامل کر لیا ہے جو دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا قانون تصور کیا جا رہا ہے۔
دسمبر 2025 سے نافذ ہونے والی اس پابندی کے تحت 16 برس سے کم عمر بچے ٹک ٹاک، انسٹاگرام، فیس بک، ایکس، اسنیپ چیٹ اور اب یوٹیوب پر اکاؤنٹ نہیں بنا سکیں گے۔ اگرچہ وہ ویڈیوز دیکھ سکیں گے مگر اپ لوڈ، تبصرے یا لائیکس کی سہولت سے محروم ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے: یوٹیوب کی نئی مونیٹائزیشن پالیسی: 15 جولائی سے بڑی تبدیلیاں کس لیے تباہ کن ہونگی؟
یوٹیوب کی مالک کمپنی گوگل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پلیٹ فارم کو مستثنیٰ ہونا چاہیے کیونکہ وہ نوجوان آسٹریلین باشندوں کو فائدہ دیتا ہے اور سوشل میڈیا کے زمرے میں نہیں آتا۔ تاہم ای سیفٹی کمشنر جولی اِن مین گرانٹ نے سفارش کی تھی کہ یوٹیوب پر بھی یہی اصول لاگو ہوں کیونکہ 10 تا 15 برس کے اکثر بچوں نے نقصان دہ مواد وہیں دیکھا۔
وزیرِ اعظم انتھونی البانیزی نے کہا کہ سوشل میڈیا ہمارے بچوں کو نقصان پہنچا رہا ہے اور والدین کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم اُن کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وفاقی وزیرِ مواصلات انیکا ویلز نے قانونی دھمکیوں کے باوجود اعلان کیا کہ کمپنیوں کو عدم تعمیل کی صورت میں 50 ملین آسٹریلوی ڈالر جرمانہ کیا جائے گا۔ تعلیم، صحت، میسجنگ اور آن لائن گیمنگ ایپس کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا کیونکہ ان سے کم نقصانات لاحق ہیں۔
تجویز کردہ قانون کی مزید تفصیلات بدھ کو پارلیمنٹ میں پیش کی جائیں گی، جبکہ یوٹیوب نے اگلے اقدامات پر غور کرنے اور حکومت سے رابطہ جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا بچے پابندی یوٹیوب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آسٹریلیا بچے پابندی یوٹیوب
پڑھیں:
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کے معاملے پر اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے نیشنل سائبرکرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں درخواست جمع کرادی۔
ایک شخص کےخلاف آئی جی اور سیکرٹری داخلہ کو بھی درخواست دی گئی ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق میاں افتخار کا کہنا ہے کہ اے این پی کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مہم قابل مذمت ہے، پارٹی کے خلاف نفرت پھیلا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اے این پی آئین کی بالادستی، جمہوریت، عدم تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کی علمبردار ہے۔
امریکی فورسز نے متعدد ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو تباہ کر دیا: سینٹکام
میاں افتخار نے مطالبہ کیا ہےکہ این سی سی آئی اے، آئی جی اور سیکرٹری داخلہ فوری اور شفاف تحقیقات کرائیں، نفرت انگیز مواد پھیلانے اور جھوٹے بیانیے تشکیل دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
مزید :