غیر قانونی تعمیرات کی اجازت کا الزام، ایس بی سی اے کے 11 افسران کے خلاف انکوائری کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دینے والے افسران کے خلاف انکوائری کا آغاز کر دیا ہے۔
ایس بی سی اے کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں تعینات 11 افسران اور اہلکاروں پر مبینہ غفلت اور غیر قانونی عمارتوں کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ان افسران پر لیاری کے علاقے میں بغیر نقشہ منظوری کے 28 عمارتوں کی تعمیر کو نظر انداز کرنے کا الزام ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سانحہ لیاری: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے 14 افسران کو قصور وار قرار دے دیا گیا
انکوائری افسر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 15 روز کے اندر اپنی رپورٹ جمع کرائے۔ ایس بی سی اے نے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے متعلقہ بلڈرز اور مالکان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی بھی ہدایت جاری کر دی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق غیر قانونی تعمیرات پر اب ڈپٹی ڈائریکٹرز کے دستخط سے ہی نوٹس جاری ہوں گے جبکہ پولیس سے ایف آئی آر کے اندراج میں قریبی تعاون کی ہدایت کی گئی ہے۔ 7 دن کے اندر کارروائی کی رپورٹ طلب کر لی گئی ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سندھ بلنڈنگ کنٹرول اتھارٹی غیرقانونی تعمیرات کراچی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سندھ بلنڈنگ کنٹرول اتھارٹی غیرقانونی تعمیرات کراچی غیر قانونی تعمیرات ایس بی سی اے کے خلاف
پڑھیں:
موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون صارفین کو سمز کے محفوظ استعمال کے حوالے سے اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اپنی رجسٹرڈ سم کسی دوسرے شخص کے حوالے کرنا قابلِ سزا جرم ہے اور اس کے سنگین قانونی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کے نام پر رجسٹرڈ سم غیرقانونی سرگرمیوں میں استعمال ہوتی ہے تو متعلقہ صارف کو بھی قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے شہری اپنی سم کسی دوسرے فرد کے استعمال کے لیے ہرگز نہ دیں۔
اتھارٹی نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر یہ تصدیق کریں کہ ان کے قومی شناختی کارڈ پر کتنی سمیں رجسٹرڈ ہیں۔ اس مقصد کے لیے cnic.sims.pk پر جا کر یا اپنا 13 ہندسوں پر مشتمل شناختی کارڈ نمبر (بغیر ڈیش کے) 668 پر ایس ایم ایس کر کے معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
اگر کسی نامعلوم یا غیر ضروری سم کی نشاندہی ہو تو اسے فوری طور پر بلاک کرایا جائے۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے