ایک بیان میں ترجمان پیپلز پارٹی نے کہا کہ اسمگلرز غیر محفوظ راستوں سے ہجرت کراتے ہیں جس سے سینکڑوں جانوں کا ضیاع ہوتا ہے، انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے عالمی تعاون اور آگاہی ناگزیر ہے، پاکستان میں بھی انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت قوانین اور جدید اقدامات پر عمل ضروری ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 30 جولائی کو انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن پر شعور اجاگر کرنا وقت کی ضرورت ہے، انسانی اسمگلنگ منظم جرم ہے اور استحصال کا خاتمہ کریں، انسانی اسمگلنگ ایک عالمی چیلنج ہے جو سالانہ لاکھوں افراد کو متاثر کرتی ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ غربت، تنازعات اور غیر محفوظ ہجرت انسانی اسمگلنگ کے بڑے اسباب ہیں، خواتین، بچے اور پسماندہ طبقے اسمگلنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

شازیہ مری نے کہا کہ اسمگلرز غیر محفوظ راستوں سے ہجرت کراتے ہیں جس سے سینکڑوں جانوں کا ضیاع ہوتا ہے، انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے عالمی تعاون اور آگاہی ناگزیر ہے، پاکستان میں بھی انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت قوانین اور جدید اقدامات پر عمل ضروری ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ پاکستانی اداروں کو اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف بھرپور ایکشن لینے کی ضرورت ہے، عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر انسانی استحصال کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انسانی اسمگلنگ کے شازیہ مری نے نے کہا کہ کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان

لاہور: اپنی چھت محفوظ چھت پروگرام 2026 کے تحت پنجاب حکومت نے ایسے شہریوں کے لیے خوشخبری سنائی ہے جو اپنے گھروں کی مرمت، مضبوطی یا توسیع کرنا چاہتے ہیں۔ اس منصوبے کے ذریعے اہل درخواست گزاروں کو 5 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ بغیر سود کے اپنے گھر کی ضروری تعمیراتی ضروریات پوری کر سکیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد کم اور متوسط آمدن رکھنے والے خاندانوں کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کرنا اور گھروں کی محفوظ تعمیر و مرمت میں مالی مدد دینا ہے۔

دو مختلف کیٹیگریز میں قرض فراہم کیا جائے گا
اس اسکیم کے تحت قرضوں کی فراہمی کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

پہلی کیٹیگری ان افراد کے لیے مختص ہے جو اپنے موجودہ گھر کی چھت کی مرمت، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی یا ضروری تعمیراتی کام کروانا چاہتے ہیں۔ ایسے درخواست گزار 5 لاکھ روپے تک بلاسود قرض حاصل کر سکیں گے، جس کی واپسی 9 سال کے دوران آسان ماہانہ اقساط میں ہوگی۔ اس کی متوقع ماہانہ قسط تقریباً 4 ہزار 700 روپے ہوگی۔

دوسری کیٹیگری ان شہریوں کے لیے رکھی گئی ہے جو اپنے گھر میں توسیع، جیسے دوسری منزل یا اضافی کمروں کی تعمیر، کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض دیا جائے گا، جسے بھی 9 سال میں واپس کرنا ہوگا۔ اس قرض کی متوقع ماہانہ قسط تقریباً 9 ہزار 300 روپے ہوگی۔

درخواست کیسے دیں؟

اپنی چھت محفوظ چھت پروگرام 2026 کے لیے درخواست دینے کے خواہشمند افراد پنجاب حکومت کے مخصوص آن لائن پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن کر سکتے ہیں۔ درخواست جمع کراتے وقت شناختی اور دیگر ضروری دستاویزات فراہم کرنا لازمی ہوگا۔

وہ افراد جو انٹرنیٹ کے ذریعے درخواست نہیں دے سکتے، ان کے لیے متبادل سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ ایسے شہری اپنی درخواست متعلقہ ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر یا پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی کے دفاتر میں جمع کرا سکتے ہیں۔

حکومت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ درخواست جمع کرانے سے پہلے اپنی تمام معلومات اور دستاویزات مکمل کر لیں تاکہ درخواست کی جانچ کے عمل میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان
  • بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • زندگی کا مقصد
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا