ڈالر اسمگلنگ: طورخم بارڈر کا ڈالر ریٹ سے کیا تعلق؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
ایکسچینج کمپنیز آف پاکستان کے ایک وفد کی جانب سے ملک کے خفیہ اداروں سے ڈالر اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے مدد طلب کیے جانے کے بعد اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی غیر قانونی کرنسی مارکیٹوں میں سناٹا چھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طورخم: ڈالراسمگلنگ میں کسٹم اہلکاروں کے ملوث ہونے کا انکشاف، انسپکٹر سمیت 2 گرفتار
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق اداروں کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بعد صورتحال میں بہتری آئی ہے تاہم ان کے مطابق اس معاملے پر مسلسل کڑی نظر رکھنا ضروری ہے تاکہ اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی پر قابو پا کر ڈالر ریٹ میں مزید کمی لائی جا سکے۔
افغانستان کو ڈالر اسمگلنگایف آئی اے ذرائع کے مطابق پاکستان سے ایران کی طرف ڈالر اسمگلنگ کافی عرصے سے جاری ہے تاہم افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بعد پاکستان سے افغانستان ڈالر اسمگلنگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ حکام کے مطابق اس کی بڑی وجہ افغان حکومت پر بین الاقوامی پابندیاں ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں پاک افغان مرکزی گزرگاہ، طورخم بارڈر، کو ڈالر اسمگلنگ کا بنیادی راستہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پشاور کے تاریخی چوک یادگار میں واقع غیر قانونی کرنسی مارکیٹ اس اسمگلنگ میں کلیدی کردار ادا کرتی رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس مارکیٹ میں اکثریت افغان شہریوں کی ہے جو کرنسی کے کاروبار کے ساتھ ساتھ ہنڈی حوالہ کے کام میں بھی ملوث ہیں۔
مزید پڑھیے: ڈالر کو مصنوعی طریقے سے مہنگا رکھا جارہا ہے، وزیراعظم نوٹس لیں، پاکستان بزنس فورم کا مطالبہ
ذرائع کے مطابق اس مارکیٹ میں تقریباً ہر کونے پر بروکر موجود ہوتے ہیں جو ڈالر اسمگلرز کے لیے کام کرتے ہیں۔ پشاور سے طورخم کا فاصلہ تقریباً 2 گھنٹے ہے اور اسی وجہ سے آمد و رفت بھی زیادہ ہوتی ہے جو اسمگلنگ کے لیے موزوں ماحول فراہم کرتی ہے۔
چوک یادگار مارکیٹ میں سناٹاملک بھر میں ڈالر اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف ممکنہ کریک ڈاؤن کی خبروں کے بعد پشاور کی مصروف اور غیر رسمی کرنسی مارکیٹ چوک یادگار میں سناٹا چھا گیا ہے۔ زیادہ تر دکانیں بند ہیں، اور جو کھلی بھی ہیں، وہ کرنسی کے کاروبار سے انکاری ہیں۔ بعض دکانوں کے باہر ’سونے‘ (گولڈ) کے بورڈ آویزاں نظر آ رہے ہیں۔
نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر مارکیٹ کے ایک دکاندار نے کہا کہ اب میں نے کرنسی کا کام چھوڑ دیا ہے اور سونے کا کاروبار شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرنسی کے کام میں اب فائدہ نہیں رہا اور آئے روز کے چھاپوں اور کارروائیوں سے تنگ آ چکے ہیں۔
دکاندار نے شکوہ کیا کہ ملک بھر میں کہیں بھی ڈالر اسمگلنگ یا ذخیرہ اندوزی کی بات ہو تو چھاپہ چوک یادگار مارکیٹ پر ہی پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نہیں کہتا کہ یہاں اسمگلنگ نہیں ہوتی لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف یہی مارکیٹ ذمہ دار ہے؟
ان کا مزید کہنا تھا کہ پشاور سے افغانستان ڈالر اسمگلنگ میں زیادہ تر افغان شہری ملوث ہوتے ہیں جو حوالہ ہنڈی کے ذریعے یہاں سے ڈالر لے جاتے ہیں اور اس مقصد کے لیے طورخم بارڈر استعمال کرتے ہیں۔
طورخم بارڈر کا ڈالر ریٹ سے تعلقجب بھی ڈالر اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائیاں ہوتی ہیں تو پشاور کے چوک یادگار اور طورخم بارڈر پر نمایاں اقدامات کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ سال طورخم پر ایک کارروائی کے دوران ایک سرکاری ادارے کے اہلکار سے 70 ہزار امریکی ڈالر برآمد ہوئے تھے جو وہ مبینہ طور پر ایک افغان شہری کے حوالے کرنے جا رہا تھا۔
حکام کے مطابق اسمگلرز اکثر سرکاری اہلکاروں اور بارڈر پر موجود پورٹرز کو معمولی رقم کے عوض استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈالر کا ریٹ اور طورخم بارڈر کے حالات میں براہ راست تعلق ہے۔ خیبر پختونخوا کو ڈالر اسمگلنگ کا سب سے بڑا روٹ سمجھا جاتا ہے۔ جب بڑے پیمانے پر اسمگلنگ ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں روپے کی قدر میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔
اسی وجہ سے جب بھی کریک ڈاؤن ہوتا ہے تو طورخم بارڈر پر سب سے زیادہ سختی کی جاتی ہے۔ حکام اسے اہم اسمگلنگ روٹ قرار دیتے ہیں۔
’اسمگلنگ اب نہ ہونے کے برابر ہے‘ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں ڈالر اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائیوں سے صورتحال میں خاصی بہتری آئی ہے۔ تاہم ان کے مطابق اس وقت ڈالر کا ریٹ زیادہ تر انٹر بینک اور ایکسچینج کمپنیوں کی ملی بھگت کی وجہ سے اوپر نیچے ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ڈالر کے بعد بھارتی کرنسی کی اسمگلنگ، رقم کراچی سے کہاں بھیجی جا رہی تھی؟
ظفر پراچہ کے مطابق گزشتہ 2 دن میں ڈالر کی قیمت میں 2 روپے تک کمی آئی ہے لیکن اسے مزید کم کرنے کے لیے مربوط اقدامات اور مسلسل نگرانی ضروری ہے۔
ان کے بقول اس وقت اسمگلنگ کو بہانہ بنا کر اصل توجہ ہٹائی جا رہی ہے جبکہ ہمیں اسمگلنگ کے ساتھ ساتھ انٹر بینک ریٹ پر بھی کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی ڈالر ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن تورخم بارڈر ڈالر اسمگلنگ ڈالر ریٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی ڈالر ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن تورخم بارڈر ڈالر اسمگلنگ ڈالر ریٹ ڈالر اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی ایکسچینج کمپنیز ذرائع کے مطابق اسمگلنگ میں کے مطابق اس مارکیٹ میں ڈالر ریٹ میں ڈالر آئی ہے کے بعد کے لیے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔