اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے اپنی ہی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھادیے
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
پشاور:
خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے محکمہ خوراک کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ سیلاب آتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف آپریشنز بھی ہوتے ہیں ایسے میں عوام کو خوراک فرہم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابرسلیم سواتی نے اجلاس کے دوران محکمہ خوراک کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اتنا بڑا محکمہ صرف گندم اور آٹے کی خریداری کے لیے بیٹھا ہے، فوڈ گرین کے لیے محکمہ خوراک کیا کر رہا ہے۔
صوبائی وزیر خوراک نے اسپیکر کے سوال پر کہا کہ ہمارے پاس صرف گندم ذخیرہ کرنے کےگودام ہیں۔
اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے کہا کہ سیلاب آتے ہیں، دہشت گردی کے خلاف آپریشنز ہوتے ہیں، عوام کو خوراک دینے کے لیے کیا انتظامات ہیں، بھارت کے خلاف جنگ ہوجاتی ہے اور بارشوں کا پھر امکان ہے، محکمہ خوراک کا کیا کردار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب 70 فیصد پانی میں ڈوبا ہوا ہے کیا ہم سیلاب سے متاثرہ گندم خریدیں گے۔
بعد ازاں خیبر پختونخوا اسمبلی نے گندم اور آٹے کی نقل و حرکت پر پابندی کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔
صوبائی اسمبلی میں مشترکہ قرارداد پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رکن احمد کنڈی نے پیش کی، جس میں کہا گیا کہ گندم اور آٹے پر پابندی آئین کے آرٹیکل 151 کی خلاف ورزی ہے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ حکومت پنجاب گندم اور آٹے کی نقل و حرکت پر پابندی نرم کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا اسمبلی گندم اور آٹے محکمہ خوراک کے خلاف کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
(سٹی42)سندھ حکومت نے مہنگے داموں پاسکو سے گندم خرید کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
2024 کی پرانی گندم پاسکو سے خرید ی جائے گی،پاسکو نے فی 40 کلو گرام کا 4150 روپے نرخ مقرر کیا ہے۔
پاسکو نے 2 لاکھ 20 ہزار 665 میٹرک ٹن گندم سندھ کو دینے کی پیشکش کی ہے،سندھ نے کاشت کاروں کیلئے 3500 روپے گندم خریداری کا نرخ مقرر کیا تھا لیکن کاشت کاروں نے کم نرخ کی وجہ سے گندم حکومت کو نہیں دی اورسندھ حکومت ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم نہیں خرید سکی۔
سندھ حکومت نےرواں سال 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خرید کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا،اب سندھ حکومت 650 روپے فی 40 کلو گرام 650 روپے مہنگی گندم خرید رہی ہے،سندھ حکومت نے بیرون ممالک سے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
محکمہ خوراک سندھ کے مطابق صوبے کو 16 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کی قلت کا سامنا ہے، سندھ میں گندم کی ضرورت 65 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن ہے،سندھ میں گندم کی پیداوار 47 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہوئی ، جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن پرانی گندم کے ذخائر موجود ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
محکمہ خوراک کے مطابق اوپن مارکیٹ میں زیادہ نرخ کی وجہ کاشت کاروں سے گندم خرید نہیںسکے،گندم کی قلت کا سامنا کرنے کی وجہ سے گندم درآمد کرنی پڑے گی،سندھ کابینہ نے گزشتہ روز گندم در آمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔