سکھر بیراج پر اونچے اور کوٹری کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صوبہ پنجاب کے بعد سندھ کے دریا میں بھی پانی کے بہاؤ میں اضافے کے سبب سکھر بیراج پر اونچے اور کوٹری بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے مطابق سکھر بیراج پر اونچے درجے کی سیلابی صورتحال کے ساتھ 5 لاکھ 71 کیوسک کا بہاؤ موجود ہے، جبکہ کوٹری بیراج پر درمیانے درجے کا بہاؤ موجود البتہ ممکنہ طور پر سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔ گڈو بیراج پر 5 لاکھ کیوسک کے ساتھ درمیانے درجے کا بہاؤ موجود ہے۔ این ڈی ایم اے اور متعلقہ ادارے صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں، بروقت اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ سیلابی علاقوں کے مکین ٹی وی اور موبائل الرٹس کے ذریعے سرکاری اعلانات اور الرٹس سے آگاہ رہیں۔ این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ عوام سے گزارش کی ہے کہ موسم اور ممکنہ خطرات کے حوالے سے آگاہی کیلئے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ سے رہنمائی لیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔