لِپ فلرز ختم کروانے پر عرفی جاوید کا چہرہ بگڑ گیا، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
بھارتی اداکارہ اور سوشل میڈیا انفلوئنسر عرفی جاوید نے لپ فلرز ختم کروانے کی وجہ بتادی۔
معروف بھارتی سوشل میڈیا انفلوئنسر اور منفرد اندازِ کے فیشن کے لیے مشہور عرفی جاوید نے حال ہی میں انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے لپ فلرز ختم کروالیے ہیں۔ ویڈیو میں ان کے ہونٹ سوجے ہوئے دکھائی دیے، جس کے بعد یہ پوسٹ وائرل ہوگئی۔
عرفی نے بتایا کہ ان کے فلرز "اپنی جگہ سے ہٹ گئے تھے” اس لیے انہوں نے انہیں حل کروانے کا فیصلہ کیا۔ ویڈیو کے کیپشن میں عرفی نے لکھا کہ "یہ فلٹر نہیں ہے، میں نے اپنے فلرز ختم کروادیے ہیں کیونکہ وہ بہت زیادہ خراب ہوچکے تھے۔ میں دوبارہ فلرز لگواؤں گی، مگر قدرتی انداز میں۔”
عرفی نے اس عمل کو "تکلیف دہ” قرار دیا اور مداحوں کو مشورہ دیا کہ کسی بھی بیوٹی ٹریٹمنٹ کے لیے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ عرفی نے کہا، "یہ بہت اہم ہے کہ آپ کسی اچھے ڈاکٹر کے پاس جائیں۔”
عرفی جاوید کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر آگ کی طرح پھیل گئی ہے اور صارفین عرفی کی ہمت کو سراہا رہے ہیں کیونکہ ایسے ٹریٹمنٹ تو آج کل سب اداکار کرواتے ہیں مگر اس طرح سے پوسٹ کوئی نہیں کرتا اور نہ ہی قبول کرتے ہیں کہ انہوں نے خوبصورتی کیلئے کوئی ٹریٹمنٹ کروایا ہے۔
اس حوالے سے دہلی کے فورٹس اسپتال کی ڈرماٹولوجسٹ ڈاکٹر رشمی شرما نے کہا کہ اگر تجربہ کار ڈاکٹر سے فلر نکلوایا جائے تو یہ زیادہ تکلیف دہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ لپ فلرز دراصل ہائیلورونک ایسڈ کے مالیکیولز ہوتے ہیں جو جسم میں قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں، جبکہ انہیں ختم کرنے کے لیے ہائیلورونائیڈیس نامی انزائم استعمال ہوتا ہے جو محفوظ اور مؤثر ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: عرفی جاوید انہوں نے فلرز ختم عرفی نے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔