Nawaiwaqt:
2026-07-24@03:53:15 GMT

حکومت کا شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT

حکومت کا شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ

حکومت نے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، اور اس حوالے سے تجاویز پر مبنی ڈرافٹ تیار کر لیا گیا ہے جو آئندہ ہفتے وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا۔وزارت صنعت و پیداوار کے ذرائع کے مطابق، مجوزہ پالیسی میں چینی کی قیمتوں اور پیداوار سے متعلق ریاستی مداخلت کو کم سے کم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت صرف 5 لاکھ ٹن چینی کا بفر اسٹاک ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) کے ذریعے رکھے گی، جو ایک ماہ کی ملکی کھپت کے برابر ہوگا، جبکہ باقی تمام معاملات نجی شعبے کے سپرد کیے جائیں گے۔اگر ڈی ریگولیشن کے باوجود چینی کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو حکومت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت سبسڈی کا دائرہ وسیع کرنے پر غور کرے گی.

تاکہ عوام کو ریلیف دیا جا سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی مجوزہ پالیسی کے تحت چینی کی سرپلس مقدار کو برآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی. تاکہ گنے کے کاشتکاروں کو بہتر قیمتیں مل سکیں اور ملکی زرمبادلہ میں اضافہ ہو۔تخمینے کے مطابق، برآمدات سے سالانہ 1.5 ارب ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ڈرافٹ کے مطابق، شوگر ملز کو اپنی پیداواری صلاحیت 50 فیصد سے بڑھا کر 70 فیصد تک لانے کی ترغیب دی جائے گی، جس سے 2.5 ملین ٹن اضافی چینی پیدا ہو سکے گی۔توقع ہے کہ اس پالیسی سے چینی کے شعبے میں مقابلے کی فضا بہتر ہوگی، کسانوں کو فائدہ ملے گا اور ملک کی معیشت کو زرمبادلہ کمانے کا نیا موقع میسر آئے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ