اسلام آباد:

وفاقی حکومت نے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے تاہم حتمی فیصلہ وزیراعظم کی منظوری کی صورت میں ہوگا۔

ایکسپریس نیوز کو ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے شوگر انڈسٹری مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے تجاویز تیار کی گئی ہیں، جس کے تحت حکومت صرف 5 لاکھ ٹن چینی کا بفر اسٹاک رکھے گی اور اس کے علاوہ مداخلت نہیں کرے گی۔

ذرائع کے مطابق شراکت داروں کے ساتھ مشاورت سے تجاویز کا حتمی مسودہ آئندہ ہفتے وزیر اعظم شہباز شریف کو پیش کیا جائے گا۔

تجاویز کے مطابق حکومت ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے پاس ایک ماہ کی کھپت کے برابر بفر اسٹاک رکھے گی، ڈی ریگولیٹ کرنے پر قیمتیں کنٹرول نہ ہوئی تو سبسڈی کا حجم بڑھایا جا سکتا ہے، چینی سرپلس ہونے پر برآمد ہوگی تو کسان کو گنے کے بہتر دام مل سکیں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے شوگر ملز کو 50 فیصد سے بڑھا کر 70 فیصد تک چلایا جائے گا، شوگر ملز کو پوری صلاحیت پر چلا کر گنا استعمال کرنے سے 2.

5 ملین ٹن اضافی چینی پیدا کی جا سکے گی۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ کھپت کے علاوہ اضافی چینی برآمد کر کے 1.5 ارب ڈالر کا زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے، ایک ماہ کی کھپت کے برابر ٹی سی پی کے ذریعے بفر اسٹاک  کے علاوہ باقی چینی نجی شعبہ ڈیل کرے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈی ریگولیٹ کرنے

پڑھیں:

نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
 

متعلقہ مضامین

  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ