چین اور امریکہ کے مابین مشترکہ تشویش کے تجارتی امور پر تعمیری تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
چین اور امریکہ کے مابین مشترکہ تشویش کے تجارتی امور پر تعمیری تبادلہ خیال WhatsAppFacebookTwitter 0 30 July, 2025 سب نیوز
بیجنگ : چین اور امریکہ کے درمیان اقتصادی اور تجارتی مذاکرات سویڈن کے اسٹاک ہوم میں منعقد ہوئے۔ بدھ کے روز چینی میڈیا کے مطابق فریقین نے چین امریکہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات اور میکرو اکنامک پالیسیوں جیسے مشترکہ تشویش کے اقتصادی اور تجارتی امور پر گہرا اور کھل کر تعمیری تبادلہ خیال کیا اور چین امریکہ جنیوا اقتصادی اور تجارتی مذاکرات کے اتفاق رائے اور لندن فریم ورک کے نفاذ کا جائزہ لیا اور اس کی توثیق کی۔ مذاکرات کے اتفاق رائے کے مطابق، دونوں فریق امریکہ کے 24 فیصد ریسپروکل محصولات کے ساتھ ساتھ چین کی جانب سے جوابی اقدامات کو معطل رکھنے کیلئے 90 دن تک توسیع کے لئے کوشش جاری رکھیں گے۔ چین امریکہ اقتصادی اور تجارتی معاملات کے چینی رہنما اور چین کے نائب وزیر اعظم حہ لی فنگ نے کہا کہ چین امریکہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات پر چین کا موقف مستقل ہے
اوران تعلقات کا مقصد باہمی فائدے اور فائدہ مند نتائج ہیں۔ اگلے مرحلے میں فریقین کو دونوں سربراہان مملکت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے کے مطابق چین-امریکہ اقتصادی اور تجارتی مشاورتی میکانزم کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لاتے ہوئے بات چیت اور مشاورت کو مزید گہرا کرنا ہوگا تاکہ مشترکہ کامیابیوں کے مزید زیادہ ثمرات کے حصول کے لئے کوشش کی جائے.
اقتصادی اور تجارتی امور پر بروقت تبادلہ کریں گی، اور دوطرفہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کی مستحکم اور صحت مند ترقی کو فروغ دیتے رہیں گی. امریکہ نےکہا کہ وہ چین کے ساتھ ملکر امریکہ چین اقتصادی اور تجارتی مشاورتی میکانزم کے ذریعے اختلافات دور کرنے، مزید مشاورتی نتائج کو فروغ دینے اور امریکہ چین اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لئے تیار ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچینی صدر کی دی گورننس آف چائنا’’ کی پانچویں جلد چینی اور انگریزی میں شائع ہو گئی چینی صدر کی دی گورننس آف چائنا’’ کی پانچویں جلد چینی اور انگریزی میں شائع ہو گئی چین ، اسمارٹ فیوچر- چائنا میڈیا گروپ نینی روبوٹ کانفرنس کا آغاز ویٹ لینڈ شہر’’ سے‘‘بے ترتیب لان‘‘تک:شہروں میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی کہانیاں یکم اگست سے پیٹرول اور ڈیزل سستا، لائٹ ڈیزل مہنگا ہونے کا امکان چین بحیرہ جنوبی چین کے معاملے کو فوجی اتحاد مضبوط کرنے کے بہانے کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت کرتا ہے، چینی وزارت... چین امریکہ تجارتی مذاکرات کا سویڈن میں آغازCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: تجارتی امور پر چین اور امریکہ امریکہ کے
پڑھیں:
روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔
بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ
دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔
افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں