اسلام آباد:

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے مالی سال 2025-26 کیلیے پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 3.6 فیصد پر رہنے کی  پیشگوئی کی ہے، جو حکومت کے مقرر کردہ 4.2 فیصد ہدف سے کم ہے۔

حکومت نے غیر ملکی سفیروں کو موجودہ معاشی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال کیانی نے امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، سعودی عرب، جاپان سمیت دیگر ممالک کے سفیروں کو معاشی اور توانائی اصلاحات پر بریفنگ دی۔

حکومت نے بتایا کہ 2.

4 کھرب روپے کے گردشی قرضے کم کرنے کیلیے 1.25 کھرب روپے کے نئے قرض لیے جا رہے ہیں، جس کا بوجھ صارفین پر 3.24 روپے فی یونٹ سرچارج کے ذریعے ڈالا جائے گا۔

بریفنگ میں بتایاگیا کہ مالی سال 2024-25 کے دوران جی ڈی پی کی شرح نمو 2.7 فیصد رہی جبکہ فی کس آمدن بھی بڑھی، حکومت نے مہنگائی کی شرح میں کمی (4.5 فیصد)، پالیسی ریٹ 22 فیصد سے 11 فیصد پر لانے اور 2.1 ارب ڈالر کاکرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل کرنے کو معاشی بہتری کی علامات قرار دیا۔

توانائی کے شعبے میں اصلاحات، ٹیرف میں توازن اور تقسیم کارکمپنیوں کی نجکاری کے منصوبے پر بھی روشنی ڈالی گئی، جس میں ابتدائی تین کمپنیوں کو 2026 تک نجی شعبے کے حوالے کرنے کا ہدف مقررکیاگیا۔

اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے ایف بی آر ریفارمز اور ٹیکس وصولیوں میں 46 فیصدحقیقی اضافہ کادعویٰ کیا۔ حکومت نے عالمی سرمایہ کاروں کو توانائی اور معیشت کے مختلف شعبوں میں 2 سے 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی دعوت دی۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حکومت نے

پڑھیں:

عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی

لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔

ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ