سینئر بھارتی اداکارہ اور سماج وادی پارٹی کی سینئر رکن جیا بچن نے راجیہ سبھا میں 'آپریشن سندور' پر شدید تنقید کرتے ہوئے مودی کو آئینہ دکھا دیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹ اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ راجیہ سبھا کے حالیہ مون سون سیشن کے دوران سماج وادی پارٹی کی سینئر رکن جیا بچن نے ’آپریشن سندور‘ کے نام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

جیا بچن نے اپنے خطاب میں سوال اُٹھایا کہ اس آپریشن کو "سندور" جیسا علامتی اور جذباتی نام کیوں دیا گیا؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس آپریشن کے نام پر کئی خواتین کا "سندور" مٹا دیا گیا ہے۔ وہ فوجی نوجوان جو اس آپریشن میں مارے گئے ان کی بیویوں کے سندور مٹ چکے ہیںْ 

دورانِ تقریر حکومتی بینچ سے مداخلت پر جیا بچن نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب دوسروں کو بولنے دیا جاتا ہے تو اُنہیں بھی مکمل بات کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا، "براہ کرم مجھے کنٹرول نہ کریں۔"

ایک حکومتی رکن کی بات پر ردعمل دیتے ہوئے جیا بچن نے کہا کہ وہ اس پر بات نہیں کریں گی، لیکن ان کے کان سب کچھ سن سکتے ہیں۔ ان کی نشست کے قریب بیٹھی شیو سینا کی رکن پریانکا چترویدی اس دوران مسکراتی دکھائی دیں۔

سوشل میڈیا پر بھی جیا بچن کی یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جیا بچن نے

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان